تمام تاجرسن لیں! ان کو رجسٹرڈ ہونا پڑے گا، عمران خان

جو تاجر کہتےکہ ہم رجسٹرڈ نہیں ہوں گے، پاکستان پر جو قرضہ چڑھا ہوا اس کیلئے رجسٹرڈ ہونا پڑے گا، مشکل وقت ایک سال تک رہے گا، ہم پاکستان کو پیروں پر کھڑا کرکے دکھائیں گے۔واشنگٹن ڈی سی میں کیپٹل ون ارینا میں عوامی اجتماع سے خطاب

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ پیر جولائی 04:20

تمام تاجرسن لیں! ان کو رجسٹرڈ ہونا پڑے گا، عمران خان
لاہور (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔21 جولائی 2019ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تمام تاجر سن لیں! ان کو رجسٹرڈ ہونا پڑے گا، جو تاجر کہتےکہ ہم رجسٹرڈ نہیں ہوں گے، پاکستان پر جو قرضہ چڑھا ہوا اس کیلئے رجسٹرڈ ہونا پڑے گا، مشکل وقت ایک سال تک رہے گا، ہم پاکستان کو پیروں پر کھڑا کرکے دکھائیں گے۔انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں کیپٹل ون ارینا میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں سب کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھے سب نے عزت دی۔

میں سوچا تھا کہ ہوٹل میں ہم پانچ سات سو پاکستانی بلائیں اور بات کروں گا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنے زیادہ لوگ اسٹیڈیم میں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاکستانی امریکن22سے سن رہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان! لیکن اب وزیراعظم بن گیا ہوں، لوگ اس کے عادی نہیں ہورہے۔

(جاری ہے)

میرے پاکستانیو!ایک چیز یاد رکھنی ہے اللہ جو ہمیں ملک دیا ہے۔

یہ کسی کو بھی اندازہ نہیں ہے کہ یہ اللہ کی کتنی بڑی نعمت ہے۔ اللہ نے ہمیں یہ ملک خاص نعمت کے طور پر دیا ہے۔ یہ وہ ملک ہے جو انشاء اللہ ہر سال اس کو تبدیل ہوتے دیکھیں گے، ہر سال ملک اوپر جائے گا۔ عمران خان نے کہا کہ دوچیزیں ہیں، کہ جمہوریت دنیا میں کیوں آگے گئی اور بادشاہت پیچھے رہ گئی؟ جمہوریت کے اندر دو چیزیں جو بادشاہت میں نہیں ہے، جمہوریت میں میرٹ ہوتا ہے۔

بادشاہت میں خون ،رشتے داری ہے،میرٹ نہیں ہے۔ دنیا میں جو ملک آگے گئے وہ میرٹ کی وجہ سے آگے گئے۔ میں کرکٹ کی مثال دیتا ہوں، آسٹریلیادنیا کی کامیاب ٹیم ہے۔ کیونکہ آسٹریلیا کے اندر جو نظام ہے وہ سارا ٹیلنٹ اوپر لے آتا ہے، وہاں میرٹ ہے۔ جبکہ دنیا میں کرکٹ کا ٹیلنٹ سب سے زیادہ پاکستان میں ہے۔ لیکن پاکستان میں میرٹ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بادشاہت کیوں پیچھے رہ گئی کہ ضروری نہیں کہ اس کا بیٹا بھی اچھا ہوگا۔

میں مثال دیتا ہوں امریکا میں جمہوریت آگئی، امریکا میں میرٹ ایسا تھا کہ ایک لیڈر برا تھا دوسرا لیڈر اوپر آگیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پہلے ڈیڑھ سوسال مغل بادشا رہے، ہندوستان سپر پاورتھی، ہندوستان کا جی ڈی پی 25 فیصد سے اوپر تھا۔ لیکن بادشاہ کی وجہ سے مسلمان پیچھے رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاکستان میں قائداعظم کے کوئی لیڈر نہیں آیا۔

اس کے بعد یہ ہوا کہ ہمارے ملک جمہوریت ، بادشاہ آئی لیکن میرٹ نہیں آئی۔ نوازشریف کو ملٹری ڈکٹیٹر نے وزیراعظم بنادیا، ان کے بھائی وزیراعلیٰ بنے کہ ان کے بھائی وزیراعظم تھے، ولی خان میں فیملی سسٹم، مولانا فضل الرحمان میں فیملی سسٹم آگیا۔آصف زرداری کاغذ کے ٹکڑے پر لیڈر بن گیا۔لیکن میرٹ نہیں تھا۔ چین کی جماعت زبردست جماعت ہے۔

وہاں میرٹ ہے۔جمہویت میں ملک کا سربراہ جواب دہ ہوتا ہے۔حضرت عمر سے ایک عام آدمی بھی پوچھتا تھا کہ پیسا کہاں سے آیا۔ پاکستان میں جب ان سے جواب لیتے ہیں، توکہتے انتقامی کاروائی ہوگئی، جب عدالت فیصلہ کرتی ہے توکہتے کیوں نکالا؟ اب نیا پاکستان بن رہا ہے، کبھی ان سے جواب نہیں لیا جاتا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان؟ آپ کی آنکھوں کے سامنے نیا پاکستان بن رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شاہد خاقان ، زرداری، نوازشریف سے پوچھو ،سارے کہتے عمران خان کروا رہا ہے۔ ہم نے ان پر کوئی کیس نہیں کیا، سارے ان کے زمانے کے کیس ہیں۔ ہم نے صرف اداروں کو آزاد کردیا ہے۔نبی پاک ﷺ نے فرمایا ، تم سے پہلے بڑی قومیں تباہ ہوئیں، جہاں طاقتور اور کمزور میں فرق نہ ہو۔ایچی سن کالج میں باہر سے لوگ آکر پڑھتے تھے ، اسی پاکستان کو آہستہ نیچے جاتے دیکھا۔

70میں سوشلزم آئی، 50کی دہائی میں تباہی ہوئی۔چھانگا مانگا کی سیاست آئی۔ اس نے ملک کو تباہ کردیا۔ہم نے دوچیزیں لے کرآنی ہیں جو بھی آفس ہولڈر ہے، وہ جواب دہ ہے۔ اب یہ سارے اکٹھے ہوگئے ہیں ۔پہلی بار پاکستان کی اسمبلی ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے۔ ن جس کا کچھ پتا نہیں کیاہے؟ سکیولربلاول بھی ساتھ مل گیا ہے۔ان کا ایک مقصد ہے، تین لفظ سننا چاہتے ہیں کہ این آراو مل جائے۔

میں سب کے سامنے کہنا چاہتا ہوں دنیا ادھر ادھر ہوجائے،مجھے ایک آدھ بادشاہ نے بھی سفارش کی ہے۔ہم نے بے نامی پراپرٹی پکڑنی شروع کردی ہیں۔اربوں روپے منی لانڈرنگ سے باہر گئے، ان سے بات شروع کردی کہ پیسا واپس لے کرآئیں۔دوسری چیز پاکستان میں میرٹ کا سسٹم لے کرآنا ہے۔میرٹ کیلئے ہم جاگیردرانہ سسٹم ختم کریں گے، مرادسعید ، حماد اظہر جیسے لیڈر آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ریکوڈک کی انکوائری کروائیں گے، تب پتا چلے کہ ہوا کیا تھا؟ اس میں ہمیں بڑا فائن بھی ہوا ہے۔200ارب کے ایک جگہ تانبا اور سونا پڑا ہوا ہے۔ 10سے وہاں کام نہیں ہورہا ہے۔ اس کی وجہ کرپشن ہے، بڑی کمپنیاں سرمایہ کاری کیلئے پاکستان نہیں آتیں۔میں کئی کمپنیوں سے ملا ہوں، ہر کمپنی یہ بات کرتی ہے کہ پاکستان میں رشوت مانگتے ہیں۔

180ارب ٹن کا کوئلہ پاکستان میں پڑا ہوا ہے۔ یعنی ہم سعودی عرب سے زیادہ بجلی بنا سکتے ہیں۔پچھلے حکمران جتنا قرضہ چڑھا کرگئے ہیں ، ہم صاف شفاف حکومت دے کرپاکستان کواٹھا کردکھائیں گے۔ہم چینی کمپنیوں سے سی پیک کے اندر ایم اویوسائن کیا۔ پاکستان میں گائے 6لیٹر اور چین میں 24لیٹر گائے دودھ دیتی ہے، ہم اس6لیٹر کو 12لیٹر کردیں تو دودھ کی برآمدات کرسکتے ہیں۔

ایک دن دیکھیں گے باہر سے دنیا پاکستان میں نوکریاں ڈھونڈنے آئے گی۔اقوام متحدہ کا چارٹرڈ آپ ﷺ نے اپنے آخری خطبے میں فرمایا۔ کسی میں رنگ نسل کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے۔نبی پاک ﷺ نے میثاق مدینہ سائن کیا، ہم تحفظ دیں گے، یہی پاکستان نے بننا ہے، پاکستان میں ایک انصاف اور میرٹ کا نظام بنائیں گے۔مدینہ کی ریاست میرٹ کے سسٹم کے باعث اوپر گئی،خالد ولید وہ کمانڈر تھا جو جنگ احد میں شکست دے چکا تھا تواس کو میرٹ پر سیف اللہ کا خطاب دے دیا۔

میں کرکٹ میں گیا تو میں نے انگلینڈ میں کرکٹ سیکھی تھی۔پھر واپس پاکستان میں کرکٹ لے کرگئے۔اب ورلڈ کپ کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں پاکستانی ٹیم کو ٹھیک کرنے لگا ہوں۔ابھی میرے لفظ یاد رکھنا کہ اگلے ورلڈ کپ میں گراؤنڈ میں بہترین ٹیم لے کرآئیں گے۔میرٹ سسٹم لے کرآئیں گے، باقی کھیلوں کو بھی فروغ دیں گے۔پی آئی اے کا بھی مجھے پتا ہے، اس کو بھی ٹھیک کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب اقتدار ملا توایک ادارہ نہیں تھا تو نقصان میں نہیں تھا، لیکن یہ مشکل وقت ایک سال تک رہے گا، ہم پاکستان کو پیروں پر کھڑا کرکے دکھائیں گے۔ جو تاجر کہتے ہیں کہ ہم رجسٹرڈ نہیں ہوں گے ، پاکستان پر جو قرضہ چڑھا ہوا ہے، سب کو رجسٹرڈ ہونا پڑے گا۔ سارے ملکر تھوڑا تھوڑا ٹیکس دیں تومشکل نہیں کہ قرضہ اترجائے۔انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے ملک پر جو قرض چڑھایا وہ پیسا واپس لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ واپس جاکر نوازشریف کیلئے ٹی وی ، ایئرکنڈیشنڈ بھی ختم کریں گے، مریم بی بی بہت شور مچائے گی، پیسا واپس کردیں جہاں مرضی جائیں۔ آصف زرداری دوسری جیل میں ہے۔ وہ ہسپتال جاتا، سارا وقت وہاں گزار دیتا ہے۔ آصف زرداری تمہیں بھی جیل میں رکھیں گے۔ شاہد خاقان عباسی باربار مجھے جیل میں ڈالو۔ اس کو جیل میں ڈال دیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ بتائیں کہ میں ٹرمپ کے سامنے کیا بات کروں؟ میں پاکستانیوں کو شرمندہ نہیں ہوںے دوں گا، کیس ٹرمپ کے سامنے رکھوں گا۔