پنجاب پولیس کے افسران کی نیب تفتیشی حکام کو واٹس ایپ پر دھمکیاں کا انکشاف

نیب لاہور پنجاب پولیس کیخلاف گجرات، ساہیوال اور شیخوپورہ ریجنز میں حکومتی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کے کیسز کی تحقیقات کر رہا ہے

بدھ جولائی 00:02

پنجاب پولیس کے افسران کی نیب تفتیشی حکام کو واٹس ایپ پر دھمکیاں کا انکشاف
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 جولائی2019ء) پنجاب پولیس کے افسران کی جانب سے نیب تفتیشی حکام کو واٹس ایپ پر دھمکیاں دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ نیب لاہور پنجاب پولیس کیخلاف گجرات، ساہیوال اور شیخوپورہ ریجنز میں حکومتی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کے کیسز کی تحقیقات کر رہا ہے۔نیب ذرائع کے مطابق صرف گجرات پولیس میں 70 کروڑ کی مبینہ کرپشن ہوئی جس پر سابق ڈی پی او گجرات رائے اعجاز سمیت کامران ممتاز گرفتار ہوئے جبکہ سابق ڈی پی او رائے ضمیر تاحال مفرور اور سابق ڈی پی او سہیل ظفر چٹھہ بیرون ملک روپوش ہو چکے ہیں۔

ملزمان ملی بھگت سے پٹرول، تفتیشی لاگت، تنخواہوں اور یوٹیلٹی اخراجات کی مد میں حکومتی خزانہ لوٹتے رہے۔ سابق ڈی پی او سہیل ظفر چٹھہ نیب کی جانب سے بارہا طلبی کے باوجود پیش نہ ہوئے بلکہ چیئرمین نیب کو افسران کیخلاف شکایتی پروانہ ارسال کر دیا۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق سہیل ظفر چٹھہ کا پنجاب پولیس میں اپنے موجود قریبی ساتھی افسران کی مدد سے دباو ٴ ڈلوانے کی کوشش کا انکشاف ہوا ہے۔

پولیس افسران نیب کیخلاف جھوٹی ایف آئی آر کٹوانے اور اثرورسوخ کے استعمال کی دھمکیاں دیتے رہے۔یاد رہے ملزم سہیل ظفر چٹھہ 1 سال چھٹی پر بیرون ملک گئے تاہم چٹھی منسوخی کے باوجود واپسی سے گریزاں ہیں۔ سٹیبلشمنٹ ڈویڑن کے نوٹس کے باوجود سہیل ظفر چٹھہ نے اپنے خلاف اثرورسوخ کے استعمال سے مبینہ طور پر انکوائری رکوا لی ہے۔شیخوپورہ ریجن کے پولیس فنڈز میں 45 کروڑ کیش کی صورت میں نکلوایا گیا جس کے خلاف نیب لاہور نے باقاعدہ انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔

سابق ڈی پی او سہیل ظفر چٹھہ شیخوپورہ ریجن میں بھی بطور ڈی پی او تعینات رہے۔ساہیوال ریجن میں ڈی پی اوز اور اکاو ٴنٹنٹ کی ملی بھگت سے شہدا فیملیز کی رقوم میں بھی مبینہ کروڑوں کی خورد برد کی گئی۔ ملوث ملزمان کی جانب سے نیب کے نوٹس لینے کے بعد ماہانہ 10 ہزار کی اقساط میں شہدا فنڈز کی رقوم کی واپسی جاری ہے۔نیب افسران پر مذکورہ کیسز کی تحقیقات رکوانے کیلئے مختلف ذرائع سے دبائو ڈلوانے کا بھی انکشاف ہوا جسے نیب افسران کی جانب سے خاطر میں نہ لایا گیا۔