پاکستانی عازمین کو حج کے دوران کن باتوں سے گریز کرنا چاہیے؟

اکثر عازمین مقدس زیارت کے دوران ایسے کام کر بیٹھتے ہیں جن سے حج کی حُرمت متاثر ہوتی ہے اور وہ مصیبت میں بھی پھنس جاتے ہیں

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ جولائی 10:30

پاکستانی عازمین کو حج کے دوران کن باتوں سے گریز کرنا چاہیے؟
مکّہ مکرمہ(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 31جولائی 2019ء ) سعودی عرب میں حج سیزن کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس موقع پر ہر سال کی طرح لاکھوں زائرین حجاز مقدس پہنچ چکے ہیں جبکہ کئی لاکھ عازمین کو ابھی اس مقدس سرزمین پر قدم رکھنا ہے۔ا س کے علاوہ عمرہ کے موقع پر بھی لاکھوں معتمرین سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں۔حرمین شریفین میں عازمین حج اور معتمرین کی حفاظت اور سہولت کے لیے ہزاروں کی تعداد میں سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جاتے ہیں جو ایسے لوگوں پر بھی نظر رکھتے ہیں جو حرمین کے تقدس کو نادانی میں پامال کر بیٹھتے ہیں۔

اس کے علاوہ کئی زائرین دُنیاوی فوائد کی خاطر بھی رب کے گھر کی حُرمت کو فراموش کر دیتے ہیں۔ حرمین شریفین میں لوگوں کی ناپسندیدہ، خلاف شرع اور غیر قانونی حرکات پر نظر رکھنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے انتہائی بہترین کوالٹی کے کیمرے بھی نصب کر رکھے ہیں جو معمولی سی معمولی حرکات کو بھی ریکارڈ کر لیتے ہیں۔

(جاری ہے)

اگر کوئی عازم یا عمرہ زائر بھیک مانگتا پایا جائے تو اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے اور عدالت کی جانب سے اسے سزا بھی سنائی جاتی ہے۔

کسی بھی زائر کو اگر حج اور رمضان المبارک میں عمرہ کے موقع پر زمین پر کوئی چیز گری پڑی نظر آئے تو وہ اسے اٹھانے کی کوشش نہ کرے، کیونکہ اس کے پیچھے بے شمار رش لگا ہوتا ہے۔ اکثر لوگ اگر غلطی سے نیچے گر جائیں تو وہ ہجوم کے پیروں تلے کچل کر جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ اس لیے کوئی چیز اٹھانے کے لیے جھکنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اور اسے چوری بھی شمار کیا جاتا ہے جس پر سخت سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اکثر لوگ طواف کے دوران اس قدر محو ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے آگے آنے والی رکاوٹ سے باخبر نہیں ہو پاتے اور گر جاتے ہیں جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ جاتی ہے اور درجنوں لوگ پیروں تلے کچل کر زندگی سے محروم ہو جاتے ہیں۔عازمین کو اپنی اور دوسروں کی جان کے تحفظ کے لیے ان تمام باتوں پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔