کاشتکاروں کو رقم کی ادائیگیاں کیس، پتوکی شوگر مل کے بورڈ ڈائریکٹرز اور برادرز شوگر مل کے موجودہ اور سابق بورڈ آف ڈائریکٹرز طلب

خیرات یا ایدھی کیلئے چندہ نہیں مانگ رہے ،کاشت کاروں کو ادائیگی کرنا پڑیگی،آئندہ سماعت پر حکم نہ ماننے پر مالکان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی بھی ہو سکتی ہے، جسٹس عظمت سعید شیخ کے ریمارکس

بدھ جولائی 14:47

کاشتکاروں کو رقم کی ادائیگیاں کیس، پتوکی شوگر مل کے بورڈ ڈائریکٹرز ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 31 جولائی2019ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے کاشتکاروں کو رقم کی ادائیگیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دور ان پتوکی شوگر مل کے بورڈ ڈائریکٹرز اور برادرز شوگر مل کے موجودہ اور سابق بورڈ آف ڈائریکٹرز کو طلب کرلیا ہے ۔بدھ کو سپریم کورٹ میں کاشتکاروں کو رقم کی ادائیگیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی دور ان سماعت وکیل پتو کی شوگر مل نے کہاکہ کاشت کاروں کو باون کروڑ ادا کر دئیے ہیںباقی کے سات کروڑ بھی ادا کردیں گے ۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ پتوکی شوگر مل کی یقین دہانی دو ٹکے کی نہیں۔انہوںنے کہاکہ کاشت کاروں کی گنے کی ٹرالیوں کو دھوپ میں وزن کم کرنے کے لیے کھڑا کر دیا جاتا ہے ،خیرات یا ایدھی کیلئے چندہ نہیں مانگ رہے ،کاشت کاروں کو ادائیگی کرنا پڑیگی۔

(جاری ہے)

جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ عزت سے ادائیگی کرنے ہے یا جبر سے۔یہ مرضی شوگر مل والوں کی ہے ۔

وکیل شوگر مل نے کہاکہ عدالت وقت دے،ہمارے ڈائریکٹر چین گئے ہیں ، جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ چین جانے کے پیسے ہیں ،کسانوں کو دینے کے پیسے نہیں ،شوگر ملوں کا کاروبار ہیں کاشت کاروں کہ غربت۔ وکیل نے کہاکہ پیمنٹ کا شیڈول دے دیتے ہیں ۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ جن کی فصل کھا گئے وہ اپنے بچوں کے کھانے کا بھی آپ کو شیڈول دیں۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہاکہ برادرز شوگرز مل کے چیک باونس ہو گئے ،برادرز شوگر مل کے ڈائریکٹر مستعفی ہو گئے ہیں ۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ کاشت کاروں کا ادائیگی نہ کرنا نیب کا جرم بنتا ہے ،شوگر ملز مالکان آئندہ سماعت پر ادائیگیاں کرکے آئے ۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ ادائیگیاں نہ ہوئی تو ٹھوکر نیاز بیگ پر واقع دفتر بھجوا دیں گے ۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ عدالت کیساتھ کھیل پر مالکان کو افسوس ہوگا،عدالتی حکم پر من و عن عمل ہو گا۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ آئندہ سماعت پر حکم نہ ماننے پر مالکان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔ بعد ازاں کیس کی سماعت 8 اگست تک ملتوی کر دی گئی ۔