پنجاب میں نیا نظامِ تعلیم نافذ کیے جانے کا فیصلہ

تمام اداروں میں میٹرک تک 5 لازمی مضامین پڑھائے جائیں گے، فیصلہ کر لیا گیا

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ پیر اگست 20:19

پنجاب میں نیا نظامِ تعلیم نافذ کیے جانے کا فیصلہ
لاہور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 05اگست 2019) پنجاب میں نیا نظامِ تعلیم نافذ کیے جانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ تمام نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں میں میٹرک تک 5 لازمی مضامین پڑھائے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں یکساں نظام تعلیم رائج کرنے کے لیے کریکولم اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے تعلیمی سسٹم کے تحت ثانوی جماعت یعنی میٹرک تک پانچ مضامین لازمی ہونگے۔

نئے نظام کے تحت سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں ان پانچ لازمی مضامین می ہی امتحانات لیے جائینگے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ نجی ادارے ان پانچ لازمی مضامین کے علاوہ بھی کورس پڑھا سکیں گے تاہم امتحان پانچ مضامین کا ہی لیا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق نئے تعلیمی نظام کا نفاذ 2020 سے ہوگا۔

(جاری ہے)

اس سے قبل پنجاب حکومت نے تمام مضامین انگریزی کے بجائے اردو میں پڑھانے کا فیصلہ کیا تھا۔

ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 45 فیصد بچے لکھ اور دیکھ کر پڑھنے کے قابل نہیں ہیں۔ ایک اور سروے رپورٹ کے مطابق پنجاب میں پانچویں جماعت کے 30 فیصد بچے انگریزی اور اردو پڑھنے سے اور ریاضی کا سوال حل کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ ادارہ تعلیم و آگاہی کی ایک رپورٹ کی مطابق پنجاب بھر میں 6 سے 16 سال کی عمر کے 89 فیصد بچے اسکولوں میں داخل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ تناسب 2016 میں 86 فیصد تھا۔

اب پنجاب بھر میں تمام تعلیمی اداروں میں یکساں نظامِ تعلیم ہو گا اور میٹرک تک سب طلباء مخصوص 5 مضامین پڑھیں گے اور تمام سکولوں میں طلباء ایک جیسا نصاب پڑھیں گے۔ سرکاری اور غیر سرکاری تمام اداروں میں تمام طلباء ایک جیسا نصاب پڑھیں گے۔ پاکستان میں پہلی بار ایسا ہو گا کہ سرکاری سکولوں کے بچے بھی وہی نصاب پڑھیں گے جو غیر سرکاری سکولوں کے بچے پڑھیں گے۔

متعلقہ عنوان :