Live Updates

مقبوضہ کشمیر، آرٹیکل 370کی منسوخی کے بعد560 سیاسی رہنماء اور کارکن نظربند

جمعرات اگست 13:50

مقبوضہ کشمیر، آرٹیکل 370کی منسوخی کے بعد560 سیاسی رہنماء اور کارکن نظربند
سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 اگست2019ء) مقبوضہ کشمیرمیں پیر کو بھارت کی طرف سے آرٹیکل 370کی منسوخی اور جموںوکشمیر کو فرقہ وارانہ بنیادپر تقسیم کرنے کے اعلان کے بعد سے پانچ سو سے زائد سیاسی رہنمائوں اور کارکنوںکو نظربند کردیاگیا ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلانی اور حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق سمیت تقریبا تمام حریت رہنمائوں کو گھروں یا جیلوں میں نظربند کردیاگیا ہے ۔

سرینگر اور وادی کے دیگر علاقوںمیں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں اور کارکنوں کو گرفتار کرلیاگیا ہے ۔ تازہ تیرین اطلاعات کے مطابق سرینگر ، بارہمولہ ، گریز اوردیگر علاقوںکے عارضی حراستی مراکز ،جیلوں اور پولیس اسٹیشنوںمیں 560 سیاسی رہنمائوںاور کارکنوں کو نظربند کیاگیا ہے جہاں پہلے ہی جھوٹے الزامات کے تحت پہلے ہی سینکڑوںحریت رہنماء اور کارکن نظربند ہیں۔

(جاری ہے)

اس مرتبہ قابض انتظامیہ نے فاروق عبداللہ ، عمر عبداللہ ، محبوبہ مفتی اور سجاد لون جیسے بھارت نواز سیاست دانوںکو بھی نہیں بخشا ہے جنہوںنے ہمیشہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی مفادات کا تحفظ کیا ہے ۔ پوری وادی کشمیرمیں مظاہرین اور بھارتی فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیںتاہم ذرائع مواصلات پر قدغن کے باعث تفصیلات نہیں مل سکی ہیں۔

دفعہ 370کی منسوخی کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر بھارتی فوجیوںکی طرف سے فائرنگ میں چھ کشمیری شہید اور سو سے زائد زخمی ہو گئے ۔ ادھر سرینگر سمیت وادی کشمیر کے دیگر علاقوںمیں سخت کرفیو نافذ ہے جبکہ ویرانی کا منظر پیش کرنے والی سڑکوں پر خار دار تاریں اور رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اوربھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروںکی بڑی تعداد تعینات ہے ۔ بھارت مخالف مظاہروں کو روکنے کیلئے سخت کرفیواورپابندیوں کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں ۔
مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری ختم سے متعلق تازہ ترین معلومات