ضلع خیبر کے ہونہار طالب علم کو والی بال کے ٹرائلز میں بہترین کارکردگی کے باوجود داخلہ نہ مِل سکا

طالب علم امیر سید آفریدی کے مطابق گورنمنٹ کالج پشاور نے اُسے ٹرائلز میں پہلے نمبر پر آنے کے باوجود داخلہ دینے سے انکار کر دیا

جمعرات اگست 14:24

ضلع خیبر کے ہونہار طالب علم کو والی بال کے ٹرائلز میں بہترین کارکردگی ..
ضلع خیبر، تحصیل باڑہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 8اگست2019ء، نمائندہ خصوصی، حُسین آفریدی) قبائلی علاقے کے طالب علم نے الزام عائد کیا ہے کہ گورنمنٹ کالج پشاور نے میرٹ کی دھجیاں اُڑا دی ہیں۔ قبائلی طلباء کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بدستور جاری ہے۔ ٹرائل میں پہلی پوزیشن پر بھی داخلہ نہیں مل سکا ۔سلیکٹرز نے لسٹ دیکھا کر کہا کہ ہمارے پاس آپ جیسے ہیرو کے لیے کوئی جگہ نہیں کیونکہ ہمیں یہ لسٹ ٹرائل سے پہلے دی گئی ہے جس میں آپ کا نام نہیں۔

خلیل آفریدی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میرے بیٹے ہونہار طالب علم امیر سید آفریدی نے گورنمنٹ کالج پشاور میں ایف ایس سی کے لئے سپورٹس پر ایڈمیشن حاصل کرنے کے لیے منگل کے روز ہونے والے ولی بال ٹرائلز میں حصہ لیا جس میں امیر سید آفریدی نے اپنے جوہر دکھا کر بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ پیش کرتے ہوئے سب طلبہ کو پیچھے چھوڑ دیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سلیکٹرز نے طرح طرح کی رُکاوٹیں ڈھالنے کی کوشش کی لیکن امیر سید آفریدی نے تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کامیاب ہوتے گئے۔ اس کے باوجود بھی سلیکٹرز کی طرف سے امیر سید آفریدی کو بائی پاس کر دیا گیا۔ خلیل آفریدی نے کہا کہ امیر سید کو سلیکٹرز نے فائنل لسٹ دکھا کر کہا کہ یہ سلیکشن پہلے سے ہوچکا ہے یہاں طلباء کو ویسے ہی بلایا جاتا ہے آپ کو تکلیف اور تھکاوٹ کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی طلباء کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بدستور جاری ہے۔ ہمیں صوبے میں انضمام کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔انہوں نے صوبائی مشیر برائے تعلیم ضیاء اللہ بنگش سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اور گونمنٹ کالج کے سلیکٹرز کو چیلنج کیا کہ اگر میرٹ پر ٹرائل کروانے ہو تو گورنمنٹ کالج میں جتنے لڑکے والی بال ٹیم کے لیے سلیکٹ ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھ امیر سید آفریدی کا غیر جانبدار سلیکٹرز کے سامنے ٹرائلز لیے جائے تاکہ سفارش اور قابلیت کا میدان میں پتہ چلے۔

متعلقہ عنوان :