سخت سکیورٹی میں جیل میں قید محسن داوڑ کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے کیا گیا ٹویٹ سامنے آگیا، ٹویٹ کس نے کیا؟

’’محسن داوڑ اور علی وزیر کو اخبار یا ریڈیو کی سہولت کے بغیر سخت سکیورٹی میں الگ الگ رکھا گیا ہے‘‘ محسن داوڑ کے اکاؤنٹ سے ان کے حمایتیوں نے ٹویٹ کر دیا

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ ہفتہ اگست 23:28

سخت سکیورٹی میں جیل میں قید محسن داوڑ کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے کیا گیا ٹویٹ ..
پشاور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 10اگست 2019ء) سخت سکیورٹی میں قید محسن داوڑ کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے کیا گیا ٹویٹ سامنے آیا ہے۔ ٹویٹر پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’’ اراکینِ قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کو الگ الگ بیرکوں میں رکھا گیا ہے جو اعلی سیکیورٹی زون میں ہیں جو کہ انتہا پسند دہشت گردوں کے لئے بنائی گئی ہیں۔ انہیں اخبار یا ریڈیو میسر نہیں ہے اور صرف انکے خاندان کے افراد کو ہفتے میں ایک بار ان سے ملنے کی اجازت ہے‘‘۔

 
 
 
 اس وقت دونوں حملہ آور جیل میں موجود ہیں اور ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ سامنے آیا ہے اور پیغام کے اختتام پہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ پیغام محسن داوڑ کی ٹیم کی جانب سے کیا گیا ہے۔ ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ محسن داوڑ کے ان حمایتیوں کے ہاتھ محسن داوڑ کا اکاؤنٹ کیسے لگا۔

(جاری ہے)

یہ ٹویٹ 26مئی کہ بعد آج پہلا پیغام ہے جو محسن داوڑ کے اکاؤنٹ سے جاری کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ محسن داوڑ اور علی وزیر کو شمالی وزیرستان میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ 26 مئی کو رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے علی وزیر اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ شمالی وزیرستان میں سکیورٹی اہلکاروں کی چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا تھا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید جبکہ چار اہلکار زخمی ہو گئے تھے تاہم جوابی کارروائی میں تین حملہ آور مارے گئے جبکہ دس افراد زخمی ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں اراکین قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کی ضمانت کے لیے درخواست بھی دائر کردی گئی تھی۔ درخواست ضمانت پشاور ہائیکورٹ بار کے صدر لطیف آفریدی ایڈووکیٹ، پیرحمیداللہ شاہ ایڈووکیٹ، سنگین خان ایڈووکیٹ اور طارق افغانایڈووکیٹ پر مشتمل وکلاء ٹیم کی جانب سے دائر کی گئی۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ اراکین قومی اسمبلی کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔