Live Updates

برطانیہ میں کرسچن کمیونٹی کی رہنما جیمز شیرا کا مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی طرف سے پیدا کردہ حالیہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار ‘ سیز فائر لائن کی خلاف ورزیوں میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار

بھارت نے 38 ہزار اضافی فوج مقبوضہ کشمیر میں تعینات کر دی ہے اور نہتے کشمیریوں پر ریاستی جبر کو مزید بڑھا دیا ہے‘ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہر طرف خوف و ہراس کی فضاء پھیل چکی ہے، امرناتھ یاترا کے لئے آنے والے ہندو یاتریوں، سیاحوں اور طلباء کو فوری طور پر مقبوضہ کشمیر چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت کوئی تباہ کن قدم اٹھانے کے لئے تیار ہے‘ برطانیہ میں کرسچن کمیونٹی کی رہنما جیمز شیرا کا برطانوی وزیراعظم کو مراسلہ

اتوار اگست 00:35

برطانیہ میں کرسچن کمیونٹی کی رہنما جیمز شیرا کا مقبوضہ جموں و کشمیر ..
اسلام آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 اگست2019ء) برطانیہ میں کرسچن کمیونٹی کی رہنما جیمز شیرا نے برطانوی وزیراعطم بورس جانسن کو اپنے مراسلہ میں بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی طرف سے پیدا کردہ حالیہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کی طرف سے یہاں موصولہ بیان کے مطابق برطانوی وزیراعظم کو مراسلے میں جیمز شیرا نے بھارت کی طرف سے سیز فائر لائن کی خلاف ورزیوں میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت نے 38 ہزار اضافی فوج مقبوضہ کشمیر میں تعینات کر دی ہے اور نہتے کشمیریوں پر ریاستی جبر کو مزید بڑھا دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں بھارتی آئین کے آرٹیکل 35 اے اور 370 کو ختم کرنے کی بھی اطلاعات ملی ہیں، جس سے مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت تبدیل ہو گئی ہے، ان آرٹیکلز میں بھارتی مقبوضہ کشمیر کے مکینوں کے ملکیتی حقوق اور شہریت بھی متاثر ہوئے ہیں، آرٹیکل 35 اے کے ختم ہونے سے بھارت مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کو تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

(جاری ہے)

مراسلہ میں انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے کشمیری عوام کے مطابق بھارت سوچی سمجھی سازش کے تحت اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے جغرافیائی تبدیلیاں لانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کا یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کشمیر تنازعہ سے متعلق قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور یہ علاقائی امن اور سلامتی کیلئے سنگین تباہی کا باعث بنے گا۔

انہوں نے مراسلہ میں یہ بھی کہا کہ اطلاعات کے مطابق بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہر طرف خوف و ہراس کی فضاء پھیل چکی ہے، امرناتھ یاترا کے لئے آنے والے ہندو یاتریوں، سیاحوں اور طلباء کو فوری طور پر مقبوضہ کشمیر چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت کوئی تباہ کن قدم اٹھانے کے لئے تیار ہے۔

جیمز شیرا نے مراسلہ میں کہا ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں سیاسی جماعتوں نے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کرنے کے مقصد کے لئے کئے گئے کسی بھی قانونی یا انتظامی قدم کی شدید مخالفت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی حکومت ان غیرمعمولی اقدامات کے حوالے سے اپنا موقف واضح کرنے میں بھی ناکام ہو گئی ہے اور بھارتی حکومت نے صورتحال کو معمول پر لانے کے لئے بھی کوئی اقدامات نہیں کئے ہیں۔

انہوں نے مراسلہ میں کہا کہ اطلاعات کے مطابق پورے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی لائن کی خلاف ورزیوں کے علاوہ بھارتی فوج نے تازہ ترین جارحیت کے دوران آزاد جموں و کشمیر میں شہری آبادیوں کو کلسٹر بموں سے بھی نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں ایک چار سالہ بچے سمیت دو شہری شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں، یہ انتہائی قابل مذمت فعل ہے۔ کلسٹر بموں یا بھاری اسلحے کا استعمال کسی بھی طرح سے بلاجواز اور بین الاقوامی قوانین اور اس سے متعلقہ عالمی کنونشنز کی خلاف ورزی ہے۔

جیمز شیرا نے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے نام مراسلہ میں مزید کہا کہ علاقائی امن اور سلامتی کے لئے پی فائیو ممالک کا ایک ذمہ دارانہ اور اہم کردار ہے اور اس سے قبل کہ کوئی تاخیر ہو جائے پی فائیو کا رکن ہونے کی حیثیت سے ہمیں فوری کردار ادا کرنا چاہیے۔
مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری ختم سے متعلق تازہ ترین معلومات