Live Updates

برطانیہ: 15 اگست کو بھارتی ہائی کمشنر کے باہر احتجاج رُکوانے کے لیے ہندو غنڈہ عناصر میدان میں آ گئے

ان غنڈہ عناصر کی جانب سے پُرامن احتجاج کرنے والے کشمیریوں اور پاکستانیوں کو مار پیٹ کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ اگست 15:04

برطانیہ: 15 اگست کو بھارتی ہائی کمشنر کے باہر احتجاج رُکوانے کے لیے ہندو ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14اگست2019ء) مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کا معاملہ دُنیا بھر میں اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ اس معاملے پر پاکستانی اور بھارتی عوام بھی سوشل میڈیا پر آمنے سامنے آ چکے ہیں۔ کل 15اگست 2019ء کو کشمیری اور پاکستانی بھارت کا یومِ آزادی احتجاج کے طور پر یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔ اس سلسلے میں پاکستان، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں ہی نہیں بلکہ دُنیا بھر میں بھارتی سفارت خانوں کے باہر بھی کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا جائے گا۔

جس دوران بھارتی حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی جائے گی۔ ایسے ہی ایک احتجاج کی تیاریاں لندن کے بھارتی ہائی کمیشن کے باہر کل کے مظاہرے کے لیے بھی کی جا رہی ہیں۔

(جاری ہے)

تاہم کشمیر سے متعلق اس مظاہرے کو ناکام بنانے کے لیے بھارتی حکومت نے ہندو غنڈہ عناصر کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔ ایک برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ اس احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے لندن میں واقع بھارتی ہائی کمیشن کے باہر ہزاروں ہندوؤں کو بھی اکٹھا کیا جائے گا، جس کے باعث دنگا فساد ہونے کا خطرہ ہے۔

اگر ایسا ہو گیا تو پاک بھارت کشیدگی برطانیہ میں بھی نقصِ امن کی صورتِ حال پیدا کر سکتی ہے۔ برطانوی اخبار کے مطابق کشمیر کی حالیہ صورتِ حال پر برطانیہ میں موجود 11 لاکھ سے زائد کشمیری اور پاکستانی بھی بہت تشویش اور پریشانی میں مبتلا ہیں۔ اس بار ان کی بڑی تعداد اپنے غم و غصّے کا اظہار کرنے کے لیے بھارتی ہائی کمیشن کے باہر آ رہی ہے۔

جبکہ بھارتی انتظامیہ اس بوکھلاہٹ کا شکار ہے کہ اگر ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی اور کشمیری اکٹھے ہو گئے تو بھارت کی دُنیا بھر میں مزید سُبکی اور رُسوائی ہو گی، اسی وجہ سے بھارتیوں نے ایسا منصوبہ تیار کیا ہے کہ احتجاجی مظاہرین کو روکنے کی خاطر بڑی گنتی میں برطانیہ میں آباد ہندوؤں کو بھی بُلایا جائے گا۔ تاکہ احتجاجی مظاہرہ کامیاب نہ ہو سکے۔ واضح رہے کہ اس وقت برطانیہ میں موجود بھارتی شہریوں کی گنتی بھی 14 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری ختم سے متعلق تازہ ترین معلومات