میں وزیر خزانہ نہیں ، وزیر خالی خزانہ تھا

ملک مشکل وقت سے گزر رہا ہے اور وزیراعظم سخت فیصلے لے رہے ہیں تاکہ جلد از جلد حالات کو بہتر بنایا جا سکے۔ سابق وزیر اسد عمر

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ اگست 17:41

میں وزیر خزانہ نہیں ، وزیر خالی خزانہ تھا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 16 اگست 2019ء) : سابق وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ میں وزیر خزانہ نہیں بلکہ وزیر خالی خزانہ تھا۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سابق وزیر اسد عمر نے کہا کہ ملک مشکل وقت سے گزر رہا ہے اور وزیراعظم سخت فیصلے لے رہے ہیں تاکہ جلد از جلد حالات کو بہتر بنایا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ان غیر مقبول فیصلوں کی وجہ سے ان کی سیاسی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی نے ورلڈ بنک کے لیے کام کیا ہے یا آئی ایم ایف میں کام کیا ہو۔ نجکاری کے حوالے سے سوال پر اسد عمرنے کہا کہ کچھ اداروں میں ایسا کرنا ضروری ہے اور کچھ میں ضرورت نہیں۔ اس وقت آمدنی کا جو ہدف رکھا گیا ہے وہ بہت بڑا چیلنج ہے، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی کی جتنی بھی حمایت کی جائے وہ کم ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ لوگ مجھےکہتے تھے آپ تو وزیر خزانہ بن رہے ہیں تو میں انہیں یہی کہتا تھا کہ میں وزیرِ خالی خزانہ ہوں کیونکہ اُس وقت ملک کا خزانہ بالکل خالی ہو چکا تھا۔ اسد عمر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چاہنے والوں میں بھی تبدیلی آئی ہے، اگر ائیرپورٹ جاؤں تو وہاں پر کھڑے گارڈز، مارکیٹ میں کھڑے عام لوگ مجھے آ کر کہتے ہیں کہ مشکل وقت ضرور ہے مگر گھبرانا نہیں ہے۔

حکومت پر لوگوں کی اُمیدوں کا بہت دباؤ ہوتا ہے، رات کو سونے سے قبل یہ ضرور سوچتا ہوں کہ کیا ہم ان کی اُمیدوں پر پورا اُتر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس وقت اسلام آباد کے ماسٹر پلان کے علاوہ دس کروڑ گیلین پانی کی اسکیم، نوجوان مراکز اور کرکٹ اسٹیڈیم پر کام کر رہا ہوں تاکہ پی ایس ایل کے میچز بھی یہاں ہو سکیں۔ وزیراعظم سے متعلق بات کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ عمران خان کا حسِ مزاح بہترین ہے، جب سے کابینہ چھوڑی ہے میں وزیراعظم سے معیشت پر بات ہی نہیں کرتا۔

ورلڈ کپ کے حوالے سے ہماری بہت بات چیت ہوتی تھی، بھارت کے خلاف میچ میں جو ٹیم کھلائی گئی انہیں بالکل پسند نہیں آئی وہ مجھ پر غصہ کر رہے تھے کہ یہ کیا ٹیم کھیلا دی ہے۔عمران خان پراُمید تو بہت ہوتے ہیں مگر وہ اس کام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے بہت جان مارتے ہیں۔ پارٹی میں رہنماؤں کے اختلافات سے متعلق سوال پر اسد عمر نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک جمہوری پارٹی ہے، اصل سوال یہ ہے کہ دونوں رہنما ملک اور پارٹی کے لئے کیا کردار ادا کر رہے ہیں، جہانگیر ترین ہوں یا شاہ محمود دونوں پارٹی اور ملک کی خاطر ایک صفحے پر ہوتے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کے حوالے سے اسد عمر نے کہا کہ حکومت کا پہلا سال تھوڑا سخت ہوتا ہے چیزوں کے بارے میں زیادہ سمجھ نہیں ہوتی اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بہتری کی گنجائش تھی لیکن اس کے باوجود یہ سال اچھا رہا ہے۔ فواد چودھری کی تعریف کرتے ہوئے اسد عمر نے مزید کہا کہ شروعاتی دنوں میں جو فواد چودھری نے میڈیا کے حوالے سے اقدام کیا وہ اگرچہ سخت تھا لیکن اصولی طور پر باکل ٹھیک تھا ۔ انہوں نے کہا کہ جس کے ذریعے پیغام پہنچایا جانا تھا انہیں ہی ناراض کر دیا گیا۔