وہ 10 جانور جو انسانوں کی ہلاکت کے سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں

Ameen Akbar امین اکبر جمعہ اگست 21:12

وہ 10 جانور جو انسانوں کی ہلاکت کے سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں

دنیا میں جہاں گھاس کھانے والے معصوم جانور ہیں وہیں گوشت کھانے والے خونخوار درندوں کی بھی کمی نہیں۔ بعض دفعہ حشرات بھی انسان کے لیے وبال بن جاتے ہیں۔ معصوم جانور ہوں، خونخوار درندے ہوں یا پھر حشرات سب ہی کسی نہ کسی حد تک انسان کی ہلاکت کا باعث بنتے ہیں۔ ذیل میں ایسے ہی چند جانوروں کی فہرست ہے جوانسانوں کی ہلاکت کا سب سے زیادہ باعث بنتے ہیں۔


10۔ہرن۔ 100 ہلاکتیں:عام طور پر ہرن کو بہت معصوم سا جانور سمجھا جاتا ہے لیکن یہ معصوم جانور بھی ہر سال 100 انسانوں کی جان لے لیتا ہے۔ اصل میں ہرن   کئی بار رات کے اندھیرے میں بھی باہر نکلتا ہے۔ خاص طور پر امریکا میں سڑکیں عبور کرتے ہوئے اکثر ہرن گاڑی کے سامنے آ جاتا ہے۔ گاڑی کی ہیڈ لائٹس کی روشنی جیسے ہی ہرن کی آنکھوں پر پڑتی ہے، ہرن ایک طرح سے منجمد ہو جاتا ہے۔

(جاری ہے)

ایسے میں گاڑی کے ڈرائیور بریک نہیں لگا پاتے اور ڈرائیور کے پاس ہرن سے ٹکرانے یا سائیڈ سے نکلنے کے سوا کوئی چار نہیں ہوتا۔اس کوشش میں بہت سے ڈرائیور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
9۔کتے۔ 200 ہلاکتیں: امریکا میں ہر سال کتوں کے کاٹنے کے 45 لاکھ واقعات ہوتے ہیں۔ ان میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد صرف 30 ہوتی ہے۔ پوری دنیا میں ہر سال تقریباً 200 افراد کتوں کے کاٹنے سے ہلاک ہوتےہیں۔


 8۔افریقی بھینس: 250 ہلاکتیں:ان کا شمار دنیا کے 5 سب سے زیادہ مشکل سے شکار کیے جانے والے جانوروں میں ہوتا ہے۔ اس کا قد 1.7 میٹر یا ساڑھے پانچ فٹ تک ہوتا ہے۔یہ 2.8 میٹر یا 9 فٹ لمبی ہوتی ہے۔اس کاوزن 1.5 ٹن تک ہو سکتا ہے۔اس کے سینگوں کی چوڑائی 4 فٹ تک ہوسکتی ہے۔یہ عام بیلوں کی نسبت 4 گنا زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔ افریقی  بھینس اچھی خاصی کینہ پرور ہوتی ہے۔

ان کی یادداشت بھی کافی تیز ہوتی ہے۔ یہ خود کو شکار کرنے کی کوشش کرنے والوں کو یاد رکھتی ہیں اور اکثر سالوں بعد اُن پر حملہ کر کے انہیں زخمی یا ہلاک کر دیتی ہیں۔ ان کے حملوں پر ہرسال 250 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
7۔ہاتھی۔500 ہلاکتیں:پرانے وقتوں میں تو بادشاہ ہاتھیوں کے پاؤں تلے باغیوں کو کچل کر موت کے گھات اتارتے تھے۔

ہاتھیوں کو اس حوالے سے خصوصی تربیت دی جاتی تھی۔ اب بھی ہاتھی کم خطرناک نہیں۔ اب بھی سالانہ 500 افراد ہاتھیوں کی وجہ سے ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
6۔مگرمچھ۔2500 ہلاکتیں:مگرمچھ ہر سال2500 ہلاکتوں کا باعث بنتے ہیں۔ ان میں سے اکثر ہلاکتیں افریقا میں ہوتی ہیں۔
5۔دریائی گھوڑے۔2900 ہلاکتیں: دریائی گھوڑوں کا وزن عام طور پر 2750 کلوگرام تک  ہوتا  ہے۔

یہ لوگوں کو  دبا کر، چبا کر، نگل کر اور ڈبو کر ہلاک کرتے ہیں۔ یہ سالانہ 2900 ہلاکتوں کا باعث بنتےہیں۔
4۔بچھو۔5000 ہلاکتیں:اس وقت دنیا میں بچھوؤں کی 1500 سے زیادہ اقسام  پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے 25 اتنی زیادہ زہریلی ہیں کہ اپنے زہر سے انسانوں کو ہلاک کر دیں۔عام طور پر زہریلے بچھوؤں  کی دم موٹی اور زہر سے بھری ہوتی ہے۔ بچھو سالانہ 5000 انسانوں کی ہلاکت کا باعث بنتے ہیں۔


3۔سانپ۔50ہزار ہلاکتیں: دنیا میں سب سے زہریلا سانپ Inland Taipan یا Western Taipan ہوتا ہے۔ اس کا زہر انسان کو منٹوں میں ختم کرتا ہے لیکن یہ سانپ انسانوں کو کبھی کبھار ہی کاٹنا ہے لیکن دوسرے بہت سے ایسے زہریلے سانپ ہوتے ہیں، جو انسانوں کا کاٹتے رہتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر سال سانپوں کے کاتنے کے 10 لاکھ سے 50 لاکھ واقعات ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک تہائی واقعات میں زہریلے سانپ کاٹتے ہیں۔

اگرچہ زہریلے سانپوں کے زہر کے لیے تریاق ہیں لیکن یہ ہمہ وقت دستیاب نہیں ہوتے۔ افریقا  میں تو تریاق کی قیمت ایک اوسط خاندان کی کئی مہینوں کی آمدن کے برابر ہوتی ہے۔ ایسے میں ہر سانپ کے کاٹنے سے 50 ہزار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
2۔سی سی مکھی۔4لاکھ ہلاکتیں: یا خَرمگسِ افریقا جنوبی افریقہ کی ایک مکھی جس کے کاٹنے سے نیند کی بیماری لاحق ہو جاتی ہے نیز انسان اور مویشی اس کی کاٹنے سے  دیگر کئی ایک بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

یہ ہر سال 4 لاکھ انسانوں کی جان لے لیتی ہے۔
1۔مچھر۔10لاکھ ہلاکتیں:آپ کے اردگرد موجود چھوٹے چھوٹے مچھر دنیا میں ہر سال 10 لاکھ انسانوں کی موت کا باعث بنتے ہیں۔اگرچہ مچھر خود سے آپ کو ہلاک نہیں کرتے لیکن یہ بیماریوں کےپھیلاؤ کا باعث بنتے ہیں۔ دنیا میں ہر سال 20 کروڑ افراد ملیریا کی بیماری کا شکار ہوتے ہیں، جو مچھروں سے پھیلتی ہے۔ اسی طرح ڈینگی وائرس بھی مچھروں سے ہی پھیلتا ہے۔