بابری مسجد مقدمہ کی سماعت میں تیزی آنے کے ساتھ رام مندر کی تعمیر کیلئے سنگ تراشی کے کام کو بھی تیز کر دیا گیا

پیر اگست 14:29

بابری مسجد مقدمہ کی سماعت میں تیزی آنے کے ساتھ رام مندر کی تعمیر کیلئے ..
ایودھیا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 اگست2019ء) بھارت میں بابری مسجد مقدمہ کی سماعت میں تیزی آنے کے بعد انتہا پسند ہندو تنطیم وشوا ہندو پریشد نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے لئے سنگ تراشی کے کام کو تیز کردیا ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ نے وی ایچ پی کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ مندر کے لئے پتھر تراشنے کے کام میں تیزی کا فیصلہ ایودھیا کیس کی روزانہ کی سماعت کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یوں محسوس ہو رہا ہے کہ ہندو فرقہ پرستوں کو پہلے سے ہی بتادیا گیا ہے کہ فیصلہ ان کے حق میں آئے گا یا پھر ان کو مودی سرکار سے یقین دہانی مل گئی ہے کہ اگر فیصلہ مسجد کے حق میں آیا تو اسے پارلیمنٹ سے تبدیل کرا لیا جائے گا۔ واضح رہے کہ کاریگروں کی کمی کے باعث ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر سنگ تراشی کا کام بند تھا تاہم اب درجن بھر کاریگر نقاشی اور پتھروںکی صفائی کے کام میں مصروف ہوگئے ہیں ،مجوزہ مندر کے لئے رکھے گئے ستونوں کو بھی چمکایا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

وی ایچ پی کے ترجمان نے بتایا کہ راجستھان سے مزید کاریگر منگوائے جا رہے ہیں۔ ترجمان گوپال داس کے مطابق مندر کی تعمیر کے لئے 70 فیصد تیاری مکمل ہوچکیہے جس سے مندر کا گرائونڈ فلور باآسانی تیار ہوجائے گا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ نومبر تک چیف جسٹس آف انڈیا کی سبکدوشی سے قبل سپریم کورٹ ایودھیا کے معاملے پر ان کے حق میں فیصلہ سنا دے گی۔