متحدہ عرب امارات میں ساحلِ سمندر پر تصویریں لینا اب آسان نہیں رہا

آپ کی بنائی گئی ویڈیو یا تصویر میں کسی دُوسرے شخص کا نظر آنا آپ کومشکل میں ڈال سکتا ہے

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر اگست 14:35

متحدہ عرب امارات میں ساحلِ سمندر پر تصویریں لینا اب آسان نہیں رہا
دُبئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،19 اگست 2019ء) اگر آپ متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں اور ساحل سمندر پر اکثر سیر و تفریح کی غرض سے جاتے ہیں تو ضرور جائیے۔ مگر ایک بات ضرور یاد رکھیے۔ اگر آپ ساحلِ سمندر پر گزارے گئے لمحات کو تصویروں یا ویڈیو کی صورت میں محفوظ کرتے ہیں۔ تو آپ کو بہت زیادہ محتاط طرزِ عمل اپنانا پڑے گا۔ کیونکہ اگر آپ کی لی گئی تصویر میں کوئی غیر متعلق شخص بھی آ جاتا ہے یا پھر آپ اپنے ساتھ گئے کسی بھی شخص کی تصویر یا ویڈیو بھی اس کی اجازت کے بغیر بنا لیتے ہیں۔

تو آپ کا یہ عمل بہت بھاری پڑ سکتا ہے۔کیونکہ اماراتی سائبر قوانین کے مطابق ایسا عمل کسی کی نجی زندگی میں مداخلت کے مترادف ہے جو کہ قابلِ سزا جُرم ہے۔ پولیس کی جانب سے ساحل سمندر پر جانے والوں کے لیے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ اپنی یا دیگر لوگوں کی تصاویر لیتے وقت بہت احتیاط برتیں۔

(جاری ہے)

کیونکہ ساحلِ سمندر پر اکثر لوگوں خصوصاً خواتین نے تیراکی کا لباس پہن رکھا ہوتا ہے۔

اگر وہ آپ کی لی گئی تصاویر میں غلطی سے بھی آ جاتی ہیں۔ اور آ پ نے یہ تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کر دیں تو متعلقہ لوگوں کی جانب سے آپ کے خلاف مقدمہ کا اندراج ہو سکتا ہے۔ گزشتہ برس بھی ساحلِ سمندر پر خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز اُن کی مرضی کے بغیر بنانے کے الزام میں 290 کے قریب افراد کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ قصور واروں کو جرمانے اور قید کی سزا بھی بھُگتنا پڑی۔ پولیس کے مطابق فوٹوگرافی اور ویڈیو بنانے میں احتیاط ساحلِ سمندر کے علاوہ دیگر عوامی مقامات پر بھی لازمی ہے۔ تاکہ آپ خود کو کسی مشکل میں پڑنے سے بچا سکیں۔