آرمی چیف جنرل باجوہ نے مجھ سے کہا تھا کہ ’میں توسیع نہیں لوں گا اورحکومت سے کہا ہے کہ مجھ کو ریٹائر کردیں‘ : جنرل (ر) امجد شعیب

خطے میں حالات بہت تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں اور ایسے حالات بن گئے ہیں کہ کشمیر کے حوالے سے بھی کافی پیچیدگیا ں پیدا ہوگئی ہیں اس لیے تسلسل بہت ضروری تھا: دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) امجد شعیب

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ پیر اگست 23:05

آرمی چیف جنرل باجوہ نے مجھ سے کہا تھا کہ ’میں توسیع نہیں لوں گا اورحکومت ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 19 اگست 2019ء) دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان سے کہا تھا کہ وہ مدتِ ملازمت میں توسیع نہیں لیں گے اور یہ کہ انہوں نے حکومت سے کہا ہے کہ انہیں ریٹائر کردیا جائے۔ امجد شعیب نے کہا ہے کہ جب امریکہ کا دورہ ہوا تو اس کے بعد انکی ایک دو ملاقاتیں آرمی چیف سے ہوئی تھیں جس دوران انہوں نے کہا تھا کہ ’میں توسیع نہیں لوں گا اورحکومت سے کہا ہے کہ مجھ کو ریٹائر کردیں‘۔

امجد شعیب نے مزید کہا کہخطے میں حالات بہت تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں اور ایسے حالات بن گئے ہیں کہ کشمیر کے حوالے سے بھی کافی پیچیدگیا ں پیدا ہوگئی ہیں اسی وجہ سے حکومت نے تسلسل کی ضرورت محسوس کی ہوگی، اس سٹیج کے اوپر ایسے معاملات موجود تھے کہ جن کو آگے لے کر چلنے کیلئے قیادت کا تسلسل بہت ضروری تھا۔

(جاری ہے)

 

 
 خیال رہے کہ آج جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتملازمت میں تین سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ مزید تین سال کے لیے آرمی چیف کے عہدے پر مقرر رہیں گے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ 29 نومبر 2019ء کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے تھے لیکن اب ان کی مدت ملازمت میں مزید تین سال کی توسیع کر دی گئی ہے جس کے تحت جنرل قمر جاوید باجوہ نومبر 2022ء تک چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔اس سے پہلے ہمیشہ کہا جاتا رہا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع نہیں کی جائے گی اور وہ ریٹائر ہو جائیں گے اب دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) امجد شعیب نےبھی بتایا ہے کہ انہیں آرمی چیف نے ایک ملاقات کے دوران کہا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی جائے۔