سندھ اور پنجاب میں صحرائی ٹڈی د َل سے بچاؤکیلئے بی اے ایس ایف (BASF) پاکستان اور حکومت کا ورکشاپس کا انعقاد!

کیمیکل بنانے والی دنیاکی مایہ ناز کمپنی بی اے ایس ایف (BASF) نے سندھ اور پنجاب میں صحرائی ٹڈی دَل سے بچاؤکے حفاظتی اقدامات کے بارے میں آگاہی پھیلانے کیلئے ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن اور محکمہ زراعت کیساتھ مختلف ورکشاپس کا انعقاد کیا

منگل اگست 15:58

سندھ اور پنجاب میں صحرائی ٹڈی د َل سے بچاؤکیلئے بی اے ایس ایف (BASF) پاکستان ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اگست2019ء) کیمیکل بنانے والی دنیاکی مایہ ناز کمپنی بی اے ایس ایف (BASF) نے سندھ اور پنجاب میں صحرائی ٹڈی دَل سے بچاؤکے حفاظتی اقدامات کے بارے میں آگاہی پھیلانے کیلئے ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن اور محکمہ زراعت کیساتھ مختلف ورکشاپس کا انعقاد کیا۔ ورکشاپس میں صحرائی ٹڈی دَل سے متاثرہ علاقوں کے محکمہ زراعت کے ورکرزنے حصہ لیا۔

ان ورکشاپس کا مقصدکیڑے ماردوائی کے چھڑکاؤ کے دوران حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی اہمیت کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا تھا۔واضح رہے کہ سندھ اور پنجاب کو اس وقت بڑے پیمانے پر صحرائی ٹڈی دَل کے حملے کا سامنا ہے جو ملک میں کپاس ، آم ،کیلے اور سبزیوں جیسی اہم فصلوں کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔پاکستان کی معیشت زراعت پر انحصار کرنے والی معیشت ہے اور یہ شعبہ ملک کے لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کررہا ہے۔

(جاری ہے)



    اس موقع پر بی اے ایس ایف پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر فیصل اختر نے کہا کہ حفاظتی تدابیر اختیار کرنا ہمارے آپریشنزکا بنیادی جُز ہے ۔زرعی حل فراہم کرنے والی ایک بڑی کمپنی ہونے کے ناطے ہم کسانوں کو مہارت اور تکنیکی مدد فراہم کرکے پائیدار زرعی ترقی کیلئے پرعزم ہیں ۔حفاظت سے متعلق آگاہی مہم کاشتکاروں اور اسپرے کرنے والوں کو محفوظ زرعی طریقوں کو اپنانے میں بھرپور کردار ادا کررہی ہے۔


    اس موقع پر بی اے ایس ایف نے صحرائی ٹڈی دَل سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والے کیڑے مار دوا استعمال کرنے والوں اور نیویگیٹرز میں 300پرسنل سیفٹی کٹس(PPEs) مفت فراہم کیں۔یہ پرسنل سیفٹی کٹس نائٹرائل دستانوں کی ایک جوڑی، تین پارٹیکولیٹ فلٹر ماسک اور حفاظتی چشموں کے ایک سیٹ پر مشتمل ہے۔واضح رہے کہ اس پرسنل سیفٹی کٹس کو ڈی پی پی کے ذریعہ استعمال ہونے والی کیڑے مار دواؤں کی میٹریل سیفٹی ڈیٹا شیٹس(MSDS) میں تجویز کیا گیا ہے۔


    اس موقع پر ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر محمدطارق خان نے کہا کہ ہم اس وقت بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں ان خطرناک کیڑوں کا مقابلہ کررہے ہیں۔اس آپریشن میں انتہائی زہریلی کیڑے مار دوائی کا استعمال ناگزیر ہے جو ہمارے فیلڈ کے عملے کی صحت کو بری طرح متاثر کرسکتا ہے۔ ہم بی اے ایس ایف کے انتہائی مشکور ہیں کہ انہوں نے ہماری ٹیموں میں آگاہی پیدا کرنے اور ذاتی حفاظتی کٹس فراہم کرنے میں ہمیں مدد فراہم کی اور اس سے ملک میں کاشتکاری کے محفوظ طریقے اپنانے میں مدد ملے گی۔


    بی اے ایس ایف نے صحرائی ٹڈی دَل سے متاثرہ شہروں حیدرآباد، میرپورخاص، بینظیرآباد، خیر پور، سکھر، صالح پٹ، ناران ڈیزرٹ،صادق آباداور بہاولپورمیں قائم محکمہ زراعت کے ضلعی دفاتر میں ان معلوماتی ورکشاپس کا انعقاد کیا۔