اومنی کی منی لانڈرنگ میں حیسکول پٹرولیم بھی ملوث نکلا

حیسکول آصف علی زرداری اور اومنی گروپ کے انور مجید اور سمٹ بنک کے حسین لوائی کے ذریعے منی لانڈرنگ میں ملوث ہے، چیئرمین نیب کو خط

منگل اگست 22:10

اومنی کی منی لانڈرنگ میں حیسکول پٹرولیم بھی ملوث نکلا
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 اگست2019ء) اومنی کی منی لانڈرنگ میں حیسکول پٹرولیم بھی ملوث نکلا۔ حیسکول کے منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا خط چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کو اسلام آباد ارسال کیا گیا ہے۔ حیسکول سے وابستہ اہم شخصیت نے نیب کو خط لکھ دیا ۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ حیسکول آصف علی زرداری اور اومنی گروپ کے انور مجید اور سمٹ بنک کے حسین لوائی کے ذریعے منی لانڈرنگ میں ملوث ہے۔

حیسکول کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلیم بٹ ، فنانس منیجر علی انصاری اور خرم شہزاد سمیت کئی افسران نے سمٹ کے حسین لوائی کے ذریعے بھاری رقم کی منی لانڈرنگ کی۔ میگا منی لانڈرنگ کیس کا ملزم حسین لوائی ہر ہفتے دو تین بارحیسکول کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلیم بٹ کے دفتر میں ملاقاتیں کرتا تھا۔

(جاری ہے)

ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نجف مرزا کو حیسکول لمیٹڈ نے پٹرول پمپ تحفے میں دیے۔

حیسکول انتظامیہ نے ایف آئی اے سندھ کے سابق ڈائریکٹر شاہد حیات کو کیریج کنٹریکٹ بھی دیا ۔ خط میں مزید انکشاف کیا گیا کہ اس رشوت کے بدلے ایف آئی اے سندھ نے حیسکول کے کرتا دھرتاوں سلیم بٹ ، علی انصاری اور خرم شہزاد کا نام منی لانڈرنگ کی تحقیقات میں نہیں ڈالا۔ جس وقت بھاری رقوم کی منی لانڈرنگ ہو رہی تھی اس وقت اسٹاک مارکیٹ میں حیسکول پٹرولیم لمٹڈ کا 50 روپے والا شیئر350روپے کردیا گیا تھا۔ نیب حیسکول انتظامیہ کا نام بھی میگا منی لانڈرنگ کیس میں شامل کرے ۔