چوہدری شوگرملز کیس میں مریم نواز اوریوسف عباس کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14روز کی توسیع

نیب پراسیکیوٹر نے جسمانی ریمانڈ کے حق میں اور ملزمان کے وکلاء نے مخالفت میں دلائل دئیے شور کرنے اور سیلفیاں بنانے پر جج کا اظہار برہمی ،سماعت کچھ دیر کیلئے ملتوی کردی ،راستے بند ،سکیورٹی کے سخت انتظامات

بدھ اگست 13:57

چوہدری شوگرملز کیس میں مریم نواز اوریوسف عباس کے جسمانی ریمانڈ میں ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 اگست2019ء) احتساب عدالت نے چوہدری شوگرملز کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن)کی مرکزی نائب صدر مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14روز کی توسیع کردی۔نیب نے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر مریم نواز اور یوسف عباس کو انتہائی سخت سکیورٹی میں احتساب عدالت کے جج نعیم ارشد کے روبرو پیش کیا۔

سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نیب نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان سے تفتیش مکمل نہیں ہوئی اسے مکمل کرنے کے لیے مزید 15 روز کا جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔مریم نواز کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ان تمام کیسز کی تحقیقات ہو چکی ہیں اور ٹرائل بھی مکمل ہو چکا ہے۔اس لیے ایک الزام میں بار بار تفتیش نہیں ہوسکتی،ایسا کرنا آئین اور قانون کے منافی ہے۔

(جاری ہے)

جج نعیم ارشد نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 14 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 4 ستمبر تک کے لیے ملتوی کردی ۔قبل ازیں لیگی رہنمااور کارکنان اظہار یکجہتی کیلئے صبح سے عدالت پہنچ گئے تاہم پولیس نے انہیں عدالت کی جانب سے روکدیا اور اس موقع پر دھکم پیل اور تلخ کلامی دیکھنے میں آئی ۔ پولیس کی طرف سے احتساب عدالت جانے والے راستوں کو کنٹینر ، بیرئیر اور خاردارتاریںلگاکر بندکردیا گیا جس کی وجہ سے کارکنان نے تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

کمرہ عدالت میں موجود بعض وکلاء اور کارکنان شور شرابہ کرتے رہے اور مریم نواز کے ساتھ سیلفیاں بھی بنوائیں جس کی وجہ سے جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی ۔کمرہ عدالت میں مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر)محمد صفدر ،صاحبزادے جنید صفدر ،پرویز رشید، نہال ہاشمی، سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال، خرم دستگیر، سیف الملوک کھوکھر سمیت دیگر بھی موجود تھے۔