Live Updates

بی بی سی نے مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر آنے کے بھارتی دعووں کی قلعی کھول دی

سکیورٹی اہلکار رات کے اوقات میں گھروں پر چھاپے مار کر نوجوانوں کو گرفتار کر رہے ہیں، اہلکار اپنی گاڑیاں کچھ فاصلے پر کھڑا کر کے گلیوں میں پیدل آتے اور چھوٹے بچوں کو مارتے ہیں، جہاں سکیورٹی فورسز تعینات نہیں وہاں بھی کوئی شخص نظر نہیں آتا، 5 اگست کے بعد سے 4000 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، حکام گرفتاریوں کے اعدادوشمار بارے سوال کو مسلسل دس روز سے ٹال رہے ہیں ،بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے خدشے کے باعث لوگ مسلسل خوف کی کیفیت میں گرفتار ہیں، برطانوی نشریاتی ادارہ

جمعرات اگست 17:44

بی بی سی نے مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر آنے کے بھارتی دعووں کی ..
سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 22 اگست2019ء) برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر آنے کے بھارتی حکومت کے دعوؤں کی قلعی کھولتے ہوئے کہا ہے کہ ان دعووں کے برعکس سرینگر کے مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ رات کے اوقات میں کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرنے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔وادی کی تازہ ترین صورتحال سامعین تک پہنچانے کے لیے شروع کیے جانے والے بی بی سی اردو کے خصوصی ریڈیو پروگرام ’نیم روز‘ میں بات کرتے ہوئے سرینگر سے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا کہ مقامی لوگوں کے مطابق سکیورٹی اہلکار رات کے اوقات میں گھروں پر چھاپے مار کر نوجوانوں کو گرفتار کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کشمیر میں 5 اگست بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے اب تک 4000 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ان میں سے بہت سوں کو وادی کے قید خانوں میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے بھارت کے مختلف شہروں میں منتقل کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

سرینگر کے رہائشی اکبر ڈار نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایاکہ ’’ہمارے دو لڑکے اٹھائے گئے ہیں۔

شاید باہمی تناؤ یا کسی اور وجہ سے۔ رات کے ٹائم پر لے گئے‘‘۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کی گرفتار افراد سے ملاقات ہوئی ہے۔ ریاض مسرور کے مطابق ان کی ملاقات ایک ایسی خاتون سے بھی ہوئی ہے جن کے بیٹے کو پرسوں رات گرفتار کر کے تھانے لے جایا گیا اور ایک دوسرے لڑکے کے نابینا دادا سڑک پر رو رہے تھے۔ ان لڑکوں کی ماں کا کہنا تھا وہ نوگام پولیس سٹیشن میں ہیں۔

وہ (سکیورٹی اہلکار) رات کے وقت آئے اور دروازے اور کھڑکیاں توڑ دیں۔ ہم نے اپیل کی کہ ہم لڑکوں کو صبح پولیس سٹیشن لے آئیں گے مگر انہوں نے ہماری بات نہ سنی۔ لڑکوں کی والدہ نے مزید بتایا چند روز پہلے گاؤں میں ایک لڑائی ہوئی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ پتھراؤ میں ملوث ہے اور اس کے والد کو اپنے ساتھ لے گئے۔ ہم بہت خوفزدہ تھے، کیونکہ گھر میں ہم صرف خواتین ہی موجود تھیں اس لیے ہم نے دروازہ نہیں کھولا۔

انھوں نے بتایاکہ بھارتی سکیورٹی اہلکار گاڑیوں میں آتے ہیں اور اپنی گاڑیوں کو کچھ فاصلے پر کھڑا کر کے گلیوں میں پیدل آتے ہیں اور چھوٹے بچوں کو مارتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی سکیورٹی اہلکار بغیر کسی وجہ کے کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیتے ہیں اور ردِعمل میں بچے ان پر پتھراؤ کرتے ہیں۔اس خاتون کا یہ بھی کہنا تھا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے رات کے ڈھائی بجے ہمارے گھر پر ریڈ کیا اور کھڑکیاں توڑ ڈالیں۔

ہم بہت ڈرے ہوئے تھے۔ ہمارے گھر میں دل کا ایک مریض اور عمر رسیدہ افراد بھی ہیں۔ ہم نے ان سے التجا کی ہم صبح کو خود ہی پولیس سٹیشن آ جائیں گے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ایسے اقدامات اور گرفتاریوں کے حوالے سے جب حکام سے پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ابھی معلومات جمع کی جا رہی ہیں لہٰذا یہ اعدادو شمار بعد میں بتائے جائیں گے۔ بی بی سی کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں حکام گذشتہ دس روز سے مسلسل اس سوال کو ٹال رہے ہیں۔

ریاض مسرور کا کہنا ہے کہ چند حساس مقامات کے علاوہ باقی جگہوں پر پابندیوں اور کرفیو میں نرمی آئی ہے۔تاہم سرینگر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں نظامِ زندگی اب بھی معطل ہے اور کاروباری اور تعلیمی سرگرمیاں حکومت کی کوششوں کے باوجود بھی بحال نہیں ہو پا رہیں۔بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق سرکاری حکم نامے کی وجہ سے اساتذہ تو سکولوں میں آ رہے ہیں لیکن بچے بالکل بھی سکول نہیں جا رہے ہیں۔

یہ عجیب صورتحال ہے کیونکہ ساری کشمیری قیادت چاہے وہ علیحدگی پسند ہو یا بھارت نواز ، نظربند یا قید ہے اور کسی نے بھی ہڑتال کی کال نہیں دی ہے۔انھوں نے کہا مقبوضہ کشمیر میں ایک خوفناک سی خاموشی ہے۔ جنوبی کشمیر میں ایسے بہت سے گاؤں ہیں جن میں سکیورٹی فورسز تعینات نہیں ہیں مگر لوگ بھی باہر نہیں ہیں۔حریت رہنماؤں کی جانب سے آج ( جمعہ کو) ہڑتال کی خبروں کے حوالے سے ریاض مسرور نے بتایا کہ صرف صورہ کے علاقے میں اس طرح کے پوسٹر دیکھے گئے ہیں جن میں نماز جمعہ کے بعد احتجاج کی کال ہے۔

تاہم اس کی تصدیق ممکن نہیں کیونکہ تمام حریت قیادت قید ہے اور دفاترکو تالے لگا دیئے گئے ہیں۔واضح رہے کہ صورہ کے مقام پر ہی بھارت مخالف احتجاج میں مظاہرین پر پولیس کی شیلنگ اور چھرے لگنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔وادی میں خوف کے ماحول کے بارے میں بات کرتے ہوئے ریاض مسرور نے بتایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ کشمیر میں مہینوں تک کرفیو رکھا گیا ہو لیکن اس بار رابطے کا ایک بھی ذریعہ نہیں چھوڑا گیا ہے۔

بی بی سی کے نمائندہ نے کہا کہ وادی میں ہر کوئی بس ایک سی سوال کرتا نظر آتا ہے کہ اب آگے کیا ہو گا۔انھوں نے کہا پہلے ایک ہفتے میں تو لوگوں کو خدشہ تھا کہ انڈیا اور پاکستان میں جنگ چھڑ جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا تو اب لوگوں کو لگتا ہے کہ بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر لوگ مسلسل خوف کی کیفیت میں گرفتار ہیں۔
تنازعہ مقبوضہ کشمیر کی بھڑکتی ہوئی آگ سے متعلق تازہ ترین معلومات