ہواوے نئے آپریٹنگ سسٹم ’ہارمونی‘ سے لیس فون متعارف کرانے سے گریزاں

ہم ایک معیار اور ایکوسسٹم برقرار رکھنا چاہتے ہیں، ہارمونی کو اسی وقت استعمال کیا جائے گا جب اینڈرائیڈ کے استعمال سے کمپنی کو روک دیا جائے گا: ہواوے انتظامیہ

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ جمعہ اگست 12:13

ہواوے نئے آپریٹنگ سسٹم ’ہارمونی‘ سے لیس فون متعارف کرانے سے گریزاں
بیجنگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔23 اگست2019ء) ہواوے نئے آپریٹنگ سسٹم ’ہارمونی‘ سے لیس فون متعارف کرانے سے گریز برتنے لگی۔ ہواوے کے نائب صدر ونسینٹ یانگ نے نیویارک میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایک معیار اور ایکوسسٹم برقرار رکھنا چاہتے ہیں، ہارمونی کو اسی وقت استعمال کیا جائے گا جب اینڈرائیڈ کے استعمال سے کمپنی کو روک دیا جائے گا۔

چینی کمپنی نے کہا ہے کہ اس کا مستقبل قریب میں ہارمونی آپریٹنگ سسٹم پر مبنی کوئی اسمارٹ فون متعارف کرانے کا ارادہ نہیں ہے۔ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ ہواوے گوگل پلیٹ فارم کو ہی ترجیح دے رہا ہے۔ کہا گیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے ہواوے پر پابندیوں کا مکمل نفاذ کردیا گیا تو ہواوے کو اینڈرائیڈ کے اہم حصوں بشمول گوگل سروسز جیسے میپس اور پلے اسٹور تک رسائی نہیں مل سکے گی۔

(جاری ہے)

فی الحال امریکی محکمہ تجارت نے ہواوے کے امریکی کمپنیوں سے کاروبار کے حوالے سے ایک بار پھر عارضی لائسنس جاری کیا گیا تھا۔ البتہ نومبر میں ممکنہ طور پر چینی کمپنی پر پابندیوں کا مکمل نفاذ ہوسکتا ہے، جس پر ہارمونی آپریٹنگ سسٹم کو اینڈرائیڈ کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔ اس سے قبل چینی ٹیلی کام کمپنیہواوے نے کہا تھا کہ وہ رواں سال اپنے نئے سمارٹ فون کا تجربہ کرے گی جس کا آپریٹنگ سسٹم اس نے خود تیار کیا ہے۔

جبکہ چینی کمپنی کے بانی نے بتایا تھا کہ دنیا بھر کے ڈویلپز کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے رواں سال ایک بین الاقوامی کانفرنس بھی رکھی جائے گی۔چینی کمپنیکا نیا آپریٹنگ سسٹم رواں سال ابتدائی طور پر چین میں متعارف کرایا جائے گا اور 2020 میں دنیا بھر میں صارفین کے لیے پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے نے بتایا تھا کہ نیا آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ کے مقابلے 60 فیصد تیز ہے لیکن اب ہواوے نئے آپریٹنگ سسٹم ’ہارمونی‘ سے لیس فون متعارف کرانے سے گریز برتنے لگی ہے۔