لیگی رہنمائوں کو گرفتار کرکے حکومت اپنی نا اہلی نہیں چھپا سکتی،پنجاب کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے‘ احسن اقبال

اعلیٰ عدلیہ بلدیاتی نمائندوں کو بحال کرے ،جمہوریت پسند لوگ ہیں آمریت کا مقابلہ کرنا ہمارے خون میں شامل ہے اگر ایک جج مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوتا ہے تو اس فیصلے کو ختم کرنا عدلیہ کاکام ہوگا،اپوزیشن جماعتیں متفقہ لائحہ عمل بنائیں گی ہم سب مل کر اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے ،دن وقت کیا ہوگا ابھی فیصلہ نہیں ہوا‘ سیکرٹری جنرل (ن) لیگ کی پریس کانفرنس

ہفتہ 24 اگست 2019 23:52

لیگی رہنمائوں کو گرفتار کرکے حکومت اپنی نا اہلی نہیں چھپا سکتی،پنجاب ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 اگست2019ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ لیگی رہنمائوں کو گرفتار کرکے حکومت اپنی نا اہلی نہیں چھپا سکتی،سعد رفیق،رانا ثنااللہ اور شاہد خاقان عباسی کے کیسزز میں آج تک حکومت کو کچھ نہیں مل سکا،نواز شریف پر عدالت نے ایک پیسے کی کرپشن ثابت نہیں کی اوریہ ہمارے لیڈر کی پاک دامنی کا ثبوت ہے،ہم جمہوریت پسند لوگ ہیں آمریت کا مقابلہ کرنا ہمارے خون میں شامل ہے،پی ٹی آئی نے بلدیاتی نظام کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا،ہماری درخواست عدالت میں ہے کہ اس فیصلے کو ختم کیا جائے ،اگر پنجاب حکومت آئین کو بلڈوز کرے گی تو اسکا حل نکالیں گے ،اگر ایک جج مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوتا ہے تو اس فیصلے کو ختم کرنا عدلیہ کاکام ہوگا،مسلم لیگ (ن) اور اپوزیشن جماعتیں عوامی احتجاج کے حوالے سے متعلق ایک متفقہ لائحہ عمل بنائیں گی ،ہم سب مل کر اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے ،دن وقت کیا ہوگا ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ماڈل ٹائون سیکرٹریٹ میں مسلم لیگ (ن) خواتین ونگ کے اجلاس سے خطاب اور بعد ازاں بلدیاتی نمائندوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر خواتین ونگ کی مرکزی صدر سینیٹر نزہت صادق،سائرہ افضل تارڑ،شائستہ پرویز،سلطانہ شاہین ،عشرت اشرف،عظمی بخاری،رابعہ فارقی،مہوش سلطانہ ،رابعہ فارقی سمیت دیگر خواتین بھی موجود تھیں۔

اجلاس کے دوران خواتین رہنمائوں پارٹی قیادت کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیگی سیاسی خواتین ورکروں پر جھوٹے مقدمات درج کرنے سے ہمارے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔ احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ حکومت آمرانہ ہتھکنڈوں سے جمہور کی آواز دبانا چاہتی ہے لیکن اسے ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ ہم عوام کے حقوق کیلئے ڈٹ کرکھڑے ہیں اور کسی صورت نہیں جھکیں گے۔

انہوںنے کہا کہ حکومت نے نئے پاکستان کے دعویداروں نے ایک سال میں ملک کی کامیابیوں کوناکامیوں سے بدل دیا ہے اور آج ہر طبقہ پریشان ہے ۔ معیشت کا دیوالیہ نکل گیا ہے لیکن حکمران پھر بھی سب اچھا کی رپورٹ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے پنجاب کو انتقامی سیاست کا نشانہ بنایا ہوا ہے،بلدیاتی نمائندوں کا مینڈیٹ ختم کردیا گیا،پاکستان کی 52فیصد آبادی کو بلدیاتی اداروں سے محروم کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب سے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دینے کا بدلا تحریک انصاف عوام سے لے رہی ہے۔پورے صوبے کے اندر جرائم کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے ۔ صوبے میں حکومت نام کی چیز نظر نہیں آرہی۔انہوں نے کہا کہ عوام اب محسوس کر رہے ہیں کہ (ن) لیگ کیساتھ انصاف کا پیمانہ کچھ اور ہے۔سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ سے اپیل کرتا ہوں بلدیاتی نمائندوں کو بحال کیا جائے۔

خواتین رہنمائوںنے کہا کہ ہمارا مقابلہ ڈکٹیٹر مشرف کی باقیات سے ہے جو عورتوں سے خوفزدہ ہے،مریم نواز ،حمزہ شہباز اور دیگر اسیران جمہوریت عوام کے بقا ء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے انتقامی جذبے سے بلدیاتی ادارے ختم کئے جو پنجاب کے عوام کے ساتھ دشمنی ہے ،پنجاب کی ترقی کے پہیہ ریورس کردیا گیا ہے ،بلدیاتی اداروں کی معطلی نظام کو ترقی سے روکنا ہے ،پی ٹی آئی کے رہنمائوں کی پرچی پر مختلف افراد بدلے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جرائم کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہوگیا اور صوبے میں کہیں حکومت نام کی چیز نظر نہیں آرہی ۔ ہمارامطالبہ ہے کہ عدلیہ تعطیلات کے بعد ان اداروں کو بحال کرے تاکہ لوگ کام کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں مسلم لیگ (ن) کے لیے انصاف کا الگ پیمانہ ہے اور باقیوں سے انصاف الگ ہے ،منتخب لوگوں کے ا دارے ختم نہ کیے جائیں، جو لوگ ووٹ لیتے ہیں وہ جواب دہ ہوتے ہیں۔

تعطیلات کے بعد پنجاب کے اداروں اور منتخب لوگوں کو بھرپور حق ملے گا۔ پنجاب کو گاجر مولی نہ سمجھیںیہ حکومت غیر آئینی حرکت کرے گی تو ہم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی اپیل 18ستمبر کو ہے ہم قانونی طریقے اپنائیں گے ۔جج ارشد ملک اپنے پیروں پر نہیں کھڑے مگر وہ فیصلہ ابھی بھی کھڑا ہے ،اگر ایک جج مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوتا ہے تو اس فیصلے کو ختم کرنا عدلیہ کاکام ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور اپوزیشن جماعتیں عوامی احتجاج کے حوالے سے متعلق ایک متفقہ لائحہ عمل بنائیں گی ،ہم سب مل کر اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے ،دن وقت کیا ہوگا ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔سینیٹ کے چیئرمین کا انتخاب ہارس ٹریڈنگ سے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ یہ حکومت کشمیر کا فیصلہ ہار کے آئی ہے ،آپ کشمیر کے مجرم ہیں ،بھارت کو 72سال میں اتنی جرات نہیں ہوئی ،آج پاکستان قومی اورسفارتی لحاظ سے کمزور ملک ہوگیا ہے ۔

حکومت نے خلفشار پیدا کرکے ملک کو کمزور کردیا ہے کہ آپکا کوئی فون سننے کو تیار نہیں۔جب ہمیں مودی کا یار کہتے تھے تب تو مودی کی یہ ہمت نہیں ہوئی یہ نعرہ لگانے والے آئے تو مودی کی ہمت ہوگی کیونکہ وہ ہمیں اب کمزور ترین ملک سمجھتے ہیں۔ہمارے سلیکٹڈوزیر اعظم نے وزارت خارجہ کی رپورٹوں پر فوری عمل نہیں کیا۔