بدمعاشی کرنے کے عوض امریکہ نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہو جائے

نئی سپر پاور اور دنیا کی سب سے بڑی معیشت نے امریکہ کو خبردار کر دیا

Sajjad Qadir سجاد قادر اتوار اگست 05:29

بدمعاشی کرنے کے عوض امریکہ نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہو جائے
لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اگست2019ء)   امریکہ کو بگڑا بچہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ ایک ایسے دولت مند خاندان کا اکلوتا بیٹا جس کو چاہے پٹائی لگوا دے جس کھلونے کو چاہے توڑ دے اور جدھر دل کرے اودھم مچاتا پھرے،امریکہ کا رویہ بالکل ایسا ہی ہے۔کبھی تو کسی پر ایسے پریشر ڈالتا ہے کہ وہ ڈر جائے گااور اگر”اگلا بندہ نہ ٹرخے تو خود ٹرخ جاتا ہے“۔

اس وقت امریکہ نے چین کے ساتھ تجارتی معاملات میں سینگ اڑائے ہوئے ہیں جہاں اس نے چین کی ہواوے کمپنی پر پابندی لگانے سے عملی اقدام شروع کیے تھے اور اب چینی کمپنیوں سے بھاری ٹیکس وصول کرنے تک پہنچ چکے ہیں۔امریکا کی جانب سے چین کی مصنوعات پر ٹیرف عائد کرنے بعد چین نے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ ’بدمعاش واشنگٹن کو آخر کار اپنے حصے کا تُرش پھل کھانا پڑے گا‘۔

(جاری ہے)

یورپی رہنماؤں نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چین اور یورپ کے ساتھ تجارتی محاذ آرائی سے خبردار کردیا۔واضح رہے کہ امریکا مختلف مراحل میں چین کی مصنوعات پر مجموعی طور پر 550 ارب ڈالر کے ٹیرف عائد کرچکا ہے۔حالیہ ٹیرف کے اضافے پر چین نے بھی بدلے میں امریکی مصنوعات پر 75 ارب ڈالر کا نیا ٹیرف عائد کیا تھا، جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کمپنیوں کو فوری طور پر بیجنگ سے واپسی کا حکم دیا تھا۔

ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’ہمارے ملک نے کئی برسوں سے چین کے ساتھ بے وقوفی میں کھربوں ڈالرز ضائع کردیے، انہوں نے ہماری جائیداد کو ایک سال میں سیکڑوں اربوں ڈالر کی قیمت میں چوری کیا اور وہ اس کو جاری رکھنا چاہتے ہیں لیکن میں ایسا نہیں ہونے دوں گا‘۔امریکی صدر کے اس بیان پر چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے واشنگٹن کے فیصلے کو ’یکطرفہ اور بدمعاشی‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے ٹیرف میں اضافہ کر کے’کثیرالجہتی تجارتی نظام اور عالمی تجارتی آرڈر کو نقصان‘ پہنچایا ہے، لہٰذا ’امریکا کو اپنے حصے کا تُرش پھل کھانا پڑے گا‘۔ترجمان نے کہا کہ ’چین، امریکا پر زور دیتا ہے کہ وہ صورتحال کے بارے میں غلط اندازہ نہ لگائے اور چین کے لوگوں کے عزم کو کم نہ سمجھے‘۔وزارت تجارت کے ترجمان نے خبردار کیا کہ ’امریکا اپنی احمقانہ غلطی کو روکے، بصورت دیگر نتائج کی مکمل ذمہ داری واشنگٹن پر عائد ہوگی‘۔اس ضمن میں بتایا گیا کہ رواں برس کے اواخر میں دونوں ممالک کے مابین تجارتی محاذ کی وجہ سے تمام درآمدات اور برآمدات کو متاثر ہوں گی۔ یہ بات واضح رہے کہ امریکا کی بیشتر کمپنیاں چین کی خدمات پر انحصار کرتی ہیں۔