امریکی پابندی سے ہواوے کمپنی کی آمدنی 10 ارب ڈالر کم ہو جائے گی

پابندی کے سبب ہواوے کمپنی امریکی کمپنیوں سے اہم اجزاء نہیں خرید سکے گی،برطانوی اخبار کی رپورٹ

اتوار اگست 11:25

بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 اگست2019ء) ٹکنالوجی کی دنیا کی مشہور چینی کمپنی ہواوے نے کہاہے کہ امریکی پابندی کے سبب رواں سال کمپنی کی کاروباری آمدنی میں کم از کم 10 ارب ڈالر کی کمی متوقع ہے۔ اس پابندی کے سبب ہواوے کمپنی امریکی کمپنیوں سے اہم اجزاء نہیں خرید سکے گی۔ یہ بات برطانوی اخبار نے بتائی۔امریکا نے پیر کے روز مزید 90 دن کی مہلت کا اعلان کیا تھا۔

اس مہلت کے وران امریکی ٹکنالوجی کمپنیاں چینی کمپنی ہواوے کو ایسی مصنوعات کی فروخت جاری رکھ سکتی ہیں جو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ہواوے کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ اس کے لیے مذکورہ مہلت کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور کمپنی اور اس کے ملازمین امریکی پابندی کے تحت مستقبل میں کام کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

(جاری ہے)

ہواوے کمپنی کے نائب چیئرمین ایرک ڑو نے کمپنی کی نئی چپ سیٹ کو متعارف کرانے کے ایونٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نہیں سمجھتے کہ ہواوے کمپنی کو درپیش اس صورت حال کی شدت میں جلد کوئی کمی واقع ہو گی۔اس سے پہلے کمپنی نے رواں ماہ اپنے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور اسمارٹ ڈیوائس کے لیے اپنے خصوصی آپریٹنگ سسٹم کا انکشاف کیا تھا۔ اس بارے میں کمپنی کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت ہواوے کو گوگل کے اینڈروئڈ سسٹم کا متبادل فراہم کر سکتی ہے۔کمپنی کا کہناتھا کہ وہ ایسینڈ 910 کو براہ راست مارکیٹ میں پیش نہیں کرے گی۔ کمپنی کے نائب چیئرمین ایرک ڑو کے مطابق یہ چپ سیٹ دنیا میں کسی بھی دوسرے پروسیسنگ یونٹ سے زیادہ بڑے ڈیٹا کے حساب کتاب کی صلاحیت رکھتی ہے۔