Live Updates

متحدہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا وزیر اعظم کے خطاب پر مایوسی کااظہار

سلیکٹڈ وزیر اعظم نے خود کہہ دیا کوئی بھی اندر اور باہر اس کا ساتھ دینے کو تیار نہیں، ٹرمپ کو ثالث بنانا مودی کو ثالث بنانا ہے، اکرم خان درانی دنیا کا ایک ملک بھی ہمارے ساتھ نہیں ،صدر کی طرف سے الیکشن کمیشن کو بھیجے گئے دو نوں ناموں سے چیف الیکشن کمشنر سے حلف لینے سے انکار کردیا، ،صدر کے خلاف مواخذہ ہوسکتا ہے،مولانا فضل الرحمن مشاورت کے بعد اے پی سی کی نئی تاریخ کا اعلان کرینگے، میڈیا کو بریفنگ

پیر اگست 20:52

متحدہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا وزیر اعظم کے خطاب پر مایوسی کااظہار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 اگست2019ء) متحدہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے وزیر اعظم عمران خان کے خطاب پر مایوسی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم نے خود کہہ دیا کوئی بھی اندر اور باہر اس کا ساتھ دینے کو تیار نہیں، ٹرمپ کو ثالث بنانا مودی کو ثالث بنانا ہے، دنیا کا ایک ملک بھی ہمارے ساتھ نہیں ، صدر نے الیکشن کمیشن کے دونام بھیج دیئے ،ان سے حلف لینے سے چیف الیکشن کمشنر نے صاف انکار کردیا ،صدر کے خلاف مواخذہ ہوسکتا ہے،مولانا فضل الرحمن مشاورت کے بعد اے پی سی کی نئی تاریخ کا اعلان کرینگے۔

متحدہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کااجلاس کنوینر اکرم خان درانی کی زیر صدارت ہوا جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور موجودہ سیاسی صورتحال سمیت مختلف امور زیر غور آئے ۔

(جاری ہے)

اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اکرم خان درانی نے کہاکہ اجلاس میں اے پی سی فیصلوں پر غور کیا گیا ،تمام جماعتوں چارٹر آف ڈیمانڈ دیئے ہیں ،تمام جماعتوں کا چارٹر آف ڈیمانڈ اے پی سی میں اکٹھاکرکے رکھیں گے ۔

انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم کی عجیب تقریر تھی ،وزیر اعظم کی کال پر کتنے لوگ نکلیں گے دیکھیں گے وزیر اعظم خود کشمیر بیچ چکا ہے ،یہ جو ہوا سب شیڈول تھا ،ٹرمپ ثالثی طے شدہ تھی۔انہوںنے کہاکہ ٹرمپ کو ثالث بنانا مودی کو ثالث بنانا ہے ،وزیر اعظم کا کہنا کہ دنیا ساتھ دے یا نہ دے مایوسی کا اظہار ہے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ اعتراف ہے کہ خارجہ پالیسی ناکام ہوگئی ۔

انہوںنے کہاکہ سلیکٹڈ وزیر اعظم نے خود کہہ دیا کوئی بھی اندر اور باہر اس کا ساتھ دینے کو تیار نہیں ۔انہوںنے کہاکہ اس سے لگتا ہے کہ وہ مایوس ہے اور استعفیٰ کی طرف بڑھ رہا ہے ۔انہوںنے کہاکہ موجودہ حکمران دنیا کا ایک ملک بھی ساتھ نہیں ملاسکے ،سلامتی کونسل کا اجلاس بھی چین کی وجہ سے ہوا ،وزیراعظم نے خود تسلیم کہ رہا ہے ہمارے ساتھ تعاون کیلئے کوئی تیار نہیں ۔

انہوںنے کہاکہ صدر نے الیکشن کمیشن کے دونام بھیج دیئے ،ان کے حلف لینے سے چیف الیکشن کمشنر نے صاف انکار کردیا ،صدر کے خلاف اس اقدام پر مواخذہ ہوسکتا ہے،ملک کے صدر اور وزیر اعظم یہ حال ہو تو باقی ملک کا کیا ہوگا ۔انہوںنے بتایاکہ اگست کا مہینہ دیا تھا کہ وزیراعظم مستعفی ہوجائیں ،وزیر اعظم کی تقریر سے لگتا تھا کہ وہ شاہد مستعفی ہوجائیں ۔

انہوںنے کہاکہ تاجر ہڑتال وکلاء ہڑتال پر ہیں نہ میڈیا اور نہ عدلیہ آزاد ہے۔انہوںنے کہاکہ پارلیمنٹ میں بھی بات نہیں ہوسکتی وہاں بھی قدغن ہے ۔ احسن اقبال نے کہاکہ اس حکومت کو مزید وقت دینا ملک کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ چیئرمین سینٹ کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی،64 ووٹ بیلٹ کے اندر جاتے ہیں لیکن 50 ووٹ نکلتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ 2018 کے جنرل الیکشن کی دھاندلی کے نتیجے میں عمران خان وزیراعظم بنے۔بعد ازاں غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے اکرم خان درانی نے کہاکہ آل پارٹیز کانفرنس 29 اگست کو نہیں ہورہی،شہباز شریف بیمار ہیں اس لئے نئی تاریخ دینگے،مولانا فضل الرحمن مشاورت کے بعد اے پی سی کی نئی تاریخ کا اعلان کرینگے۔
مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ کا اعلان سے متعلق تازہ ترین معلومات