پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے خلاف اقامہ رکھنے کی درخواست ،وکلا کو آئندہ سماعت پر دلائل جاری رکھنے کی ہدایت

منظور وسان نہ کیبنٹ کا حصہ ہیں اور نہ ہی رکن صوبائی اسمبلی ہیں۔ اقامہ اثاثوں میں شمار نہیں ہوتا،وکیل بیرسٹر خالد جاوید کے دلائل

جمعہ اگست 16:40

پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے خلاف اقامہ رکھنے کی درخواست ،وکلا کو آئندہ ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 اگست2019ء) سندھ ہائیکورٹ نے پیپلز پارٹی رہنما فریال تالپور، منظور وسان، ناصر حسین، سہیل انور سیال اور دیگر کیخلاف اقامہ رکھنے سے متعلق وکلا کو آئندہ سماعت پر دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس آغا فیصل پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو پیپلز پارٹی رہنما فریال تالپور، منظور وسان، ناصر حسین، سہیل انور سیال اور دیگر کیخلاف اقامہ رکھنے ست متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

رہنما پیپلز پارٹی منظور وسان کیخلاف درخواستگزار کے وکیل حق نواز تالپور کے دلائل دیئے۔ حق نواز تالپور ایڈوکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ منظور وسان کیخلاف درخواست بنیادی طور پر چھپانے کی ہے۔ منظور وسان کے دبئی کی کمپنی میں 25 فیصد شیئرز تھے بعد میں فروخت کیے۔

(جاری ہے)

منظور وسان کے وکیل بیرسٹر خالد جاوید نے دلائل میں کہا کہ منظور وسان نہ کیبنٹ کا حصہ ہیں اور نہ ہی رکن صوبائی اسمبلی ہیں۔

اقامہ اثاثوں میں شمار نہیں ہوتا۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کا وجود ہی نہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریماکس دیئے منظور وسان عوامی عہدہ ہی نہیں رکھتے تو ان کو نا اہل کیسے قرار دیں حق نواز تالپور ایڈوکیٹ نے دلائل دیئے کہ منظور وسان کو 7 وجود پر نااہل قرار دیا جاسکتا ہے۔ اثاثے چھپانے اور غلط بیانی پر عوامی نمائندوں کو نااہل کرنے کے اعلی عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں۔

منظور وسان 2012 میں صوبائی وزیر تھے اور دبئی میں کمپنی کے شئیرز 2015 میں فروخت کیے۔ منظور وسان نے بحثیت کمپنی منیجر دبئی کا اقامہ حاصل کیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر وکلا کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 6 ستمبر تک ملتوی کردی۔ دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ اثاثے چھپانے پر 2018 کے انتخابات میں منظور وسان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے۔ منظور وسان نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔