Live Updates

اپوزیشن جماعتیں کشمیر سے اظہار یکجہتی کے لیے غائب نہیں تھیں ، انہیں غائب کر دیا گیا تھا

پوری قوم حکومت کے کہنے پر باہر نہیں آئی بلکہ یہ ریاست کا فیصلہ تھا۔ صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ اگست 14:33

اپوزیشن جماعتیں کشمیر سے اظہار یکجہتی کے لیے غائب نہیں تھیں ، انہیں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 31 اگست 2019ء) : مقبوضہ کشمیر سے اظہار یکجہتی کے لیے گذشتہ روز دوپہر 12 بجے سے لے کر ساڑھے 12 بجے تک پوری قوم سڑکوں پر نکل آئی اور کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا اور نعرے بازی کی۔ اس حوالے سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہاکہ کشمیر سے اظہار یکجہتی کرنے کے وقت اپوزیشن جماعتیں غائب نہیں رہیں بلکہ اُنہیں غائب کر دیا گیا تھا ۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں ساری موجود تھیں، پوری قوم اس معاملے پر ساتھ تھی ، لیکن اپوزیشن جماعتوں کو سامنے نہیں لایا گیا۔ بات یہ ہے کہ کچھ باتیں ایسی ہیں جن پر پوری قوم ایک ہو جاتی ہے، کشمیر کا معاملہ اُن میں سے ایک ہے۔ لیکن یہ مجھے کوئی نہ کہے کہ حکومت کے کہنے پر قوم اکٹھی ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

مجھ سے کوئی اس بات پر زبردستی نہیں کر سکتا۔

یہ جو کچھ ہوا ہے یہ ریاست کا فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے جہاز اور سڑکوں پر گاڑیاں سب کچھ رُک گیا تھا۔ اسکولوں کے بچے باہرنکلے، کھلاڑی اور فنکاروں سمیت سب نے کشمیر سے اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی اس موقع پر تقریر کی۔ کراچی میں بھی بڑا اجتماع ہوا، گورنر سندھ وہاں موجود تھے شاہد آفریدی بھی موجود تھے۔

لیکن بات یہ ہے کہ یہ ریاست کا فیصلہ تھا کہ کیا اور کیسے ہونا ہے۔ ایک بات کہوں گا کہ جو سپہ سالار ہوتے ہیں اُن کے پیچھے لشکر چلتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی حالات ایسے ہوتے ہیں، کہ لشکر مجبور کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے ایک مخصوص سمت میں جانا ہے جس پر پھر سپہ سالار بھی اُسی سمت میں چلا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے مزید کیا کہا آپ بھی دیکھیں:
تنازعہ مقبوضہ کشمیر کی بھڑکتی ہوئی آگ سے متعلق تازہ ترین معلومات