ایف بی آر اگست کا ریوینیو ہدف بھی حاصل نہ کر سکا

مالی سال 20-2019 کے دوسرے ماہ میں ایف بی آر ریوینیو اکٹھا کرنے کے ہدف سے 50 ارب روپے پیچھے رہ گیا

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ اتوار ستمبر 12:36

ایف بی آر اگست کا ریوینیو ہدف بھی حاصل نہ کر سکا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین. یکم ستمبر 2019ء) فیڈرل بورڈ آف ریونیو اگست کا ریوینیو ہدف بھی حاصل نہ کر سکا۔ ذرائع کے مطابق مالی سال 20-2019 کے دوسرے ماہ میں ایف بی آر ریوینیو اکٹھا کرنے کے ہدف سے 50 ارب روپے پیچھے رہ گیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ جولائی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو اپنے ریوینیو اہداف سے 14 ارب روپے پیچھے تھا اور اور اس ماہ 50ارب روپے پیچھے رہ گیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق رواں ماہ ایف بی آر 302 ارب روپے اکٹھا کرپایا جو حکوت کی امید سے کافی کم تھا۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ایف بی آر کے سابق چیئرمین کو مئی کے مہینے میں اس لیے برطرف کردیا تھا کیونکہ ان کی ریوینیو کی وصولی شارٹ فال کی جانب جارہی تھی۔ ساڑھے 55 کھرب روپے کا ریوینیو جمع کرنے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے وزیر اعظم نے 10 مئی کو شبر زیدی کو نجی شعبے سے بلاکر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا چیئرمین تعینات کیا تھا لیکن وہ بھی اہداف کے حصول میں ناکام نطر آرہے ہیں۔

(جاری ہے)

دوسری جانب چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا ہے کہ حکومت اپنے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے تجارت اور سروسز پر ٹیکس عائد کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسمگل کی گئی اشیا ریٹیل مارکیٹ میں بغیر ٹیکس کے فروخت ہورہی ہیں اور اسے روکنا ہوگا، پیداواری شعبہ ٹیکس ادا کررہا ہے جبکہ تجارت اور غیر منتظم سروسز کا شعبہ ٹیکس ادائیگی سے بچ نکلتا ہے۔ شبر زیدی نے مزید کہا کہ ٹیکس جمع کرنے والے ادارے ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کے لیے جارحانہ حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے، جس میں چند اہم سروسز جیسے تعلیمی ادارے، ہسپتال، ڈاکٹر اور اساتذہ شامل ہے، کو نوٹسز جاری کیے جارہے ہیں تاکہ انہیں ٹیکس نیٹ میں لایا جاسکے۔