ہائر ایجوکیشن کمیشن اور ہواوے ٹیکنالوجیز پاکستان کے زیرانتظام اسمارٹ اینڈ سیف کیمپس پروگرام کے تحت ہوآوے سرٹیفائیڈ نیٹ ورک ایسو سی ایٹ کی ٹریننگ کا انعقاد

اتوار ستمبر 14:50

اسلام آباد ۔ یکم ستمبر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 ستمبر2019ء) ہایئر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور ہواوے ٹیکنالوجیز پاکستان نے اسمارٹ اینڈ سیف کیمپس پروگرام کے تحت ہوآوے سرٹیفائیڈ نیٹ ورک ایسو سی ایٹ (وائی ۔فائی) کی ہفت روزہ ٹریننگ کا انعقاد کیا ۔ اس ٹریننگ کی اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی ایچ ای سی کے ممبر آپریشنز اینڈ پلاننگ، ڈاکٹر فتح مری تھے ۔

اس ٹریننگ میں ملک بھر بشمول اسلام آباد، بنوں ، خضدار ، کوئٹہ ، نواب شاہ ، جامشورو، ڈیرہ غازی خان، فیصل آباد اور میر پور کی جامعات کے 15افراد شریک ہوئے ۔ ہواوے ٹیکنالوجیز نے اس ٹریننگ کے لیے تجربہ کار ریسورس پرسنز مدعو کر رکھے تھے ۔ ٹریننگ کے انعقاد کا مقصد جامعات کی افرادی قوت کو اسمارٹ اینڈ سیف کیمپس پروگرام سے متعلقہ جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں ٹریننگ فراہم کرنا تھا۔

(جاری ہے)

اس ٹریننگ کی تکمیل کے بعد نہ صرف ٹریننگ کے شرکاء کی استعداد کار میں بہتری آئے گی بلکہ ٹریننگ کے شرکاء پروفیشنل امتحان پاس کرنے کے بعد نیٹ ورک پروفیشنل کی بین الاقوامی سرٹیفکیشن بھی حاصل کر سکیں گے ۔ اسمارٹ اینڈ سیف کیمپس پراجیکٹ ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے اسمارٹ یونیورسٹی پروگرام کا اہم جزو ہے ۔ یہ پراجیکٹ 2016میں شروع کیا گیا تھا جس کے تحت ملک بھر کی جامعات کے طلباء اور اساتذہ کو کیمپس میں ایڈوانس وائی فائی اور چوبیس گھنٹے انٹرنیٹ کے ذریعے اساتذہ اور طلباء کے درمیان رابطہ کو یقینی بنانا ہے۔

مزید براں اس پروگرام کے ذریعے ہر صارف کو زیادہ سے زیادہ ڈیٹاریٹ کی فراہمی، ایجوروم، بلینکٹ وائی فائی، طلباء کی تصدیق، گیسٹ پورٹل ، یو آر ایل ٹریکنگ اور لاگنگ کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ جامعات میں مانیٹرنگ سسٹم کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا تاکہ تعلیمی ادارے اپنے وائرلیس نیٹ ورکس تک رسائی اور مانیٹرنگ کر سکیں ۔ یہ پروگرام حساس اور تکنیکی نوعیت کا ہے کہ جس میں فعال رہنے ، جگہ کا معائنہ کرنے، آٹو کیڈ نقشوں کی تیاری ، ہیٹ میپس کے ذریعے وائی فائی کی پلاننگ اور جامعات کے مابین وسیع بنیادوں پر ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔

اس پروگرام کی پیچیدگی، وسیع تر حجم اور ایک بڑے جغرافیائی رقبے پر تیزی سے آلات کی ترسیل و تنصیب کی وجہ سے بجٹ میں کمی کے مسائل بھی سامنے آرہے ہیں ۔ ٹریننگ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فتح مری نے ایچ ای سی اور ہوآوے کی ٹیموں کو سراہا کہ جن کی بدولت جامعات کی افرادی قوت کو جدید ترین ٹریننگ کی فراہمی یقینی بنائی جا سکی ۔

انھوں نے کہا کہ اسمارٹ کلاس روم پراجیکٹ اور اسی نوعیت کے دیگر پراجیکٹس میں تیزی سے بہتری لانے کی ضرورت ہے کیونکہ ٹیکنالوجی کسی بھی ملک کے تعلیمی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس ٹریننگ کے بعد وہ پیچیدہ نیٹ ورکس کی مؤثر انداز میں دیکھ بھال کر سکتے ہیں ۔ پیپلز یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز فار ویمن ، نواب شاہ کے محمد علی نے کہا کہ ایچ ای سی نے جامعات کے لیے بہترین پراجیکٹ کا آغاز کیا ہے۔

صارفین ان تمام جامعات میں انٹرنیٹ ریسورس سے بہر ہ مند ہو سکتے ہیں جہاں اسمارٹ اینڈ سیف کیمپس پراجیکٹ موجود ہے۔ٹریننگ کے شرکاء نے امید ظاہر کی کہ یہ پراجیکٹ مزید جامعات میں بھی شروع کیا جائے گا اور اس سے طلباء تعلیم حاصل کرنے کے لیے فائدہ اٹھاتے رہیں گے کیونکہ اس پراجیکٹ کے ذریعے قابل اعتبار اور محفوظ نیٹ ورک مہیا کیا جاتا ہے۔ غازی یونیورسٹی کے محمد یاسر بھٹہ کا کہنا تھا کہ اسمارٹ یونیورسٹی پراجیکٹ کے ذریعے ہنر مند ریسورس کی فراہمی ممکن ہو سکی ہے اورجامعات میں ٹیکنیکل افرادی قوت کی کمی کو پورا کیا جا رہاہے ۔

نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے وسیم مرتضی نے کہا کہ ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے زیر سایہ اسمارٹ یونیورسٹی پراجیکٹ پورے پاکستان کو ایک مرکزی نقطہ سے جوڑتا ہے۔ ایجوروم ایس ایس آئی ڈی کے ذریعے ملک بھر کی جامعات کے طلباء ، ملازمین اور اساتذہ اپنے بائیوڈیٹا کے ذریعے ملک بھر میں اور بیرون ملک انٹرنیٹ کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں ۔

اسی پراجیکٹ کی بدولت ایچ ای سی کی ڈیجیٹل لائبریری تک مفت رسائی اور محققین کو اپنے مقالہ جات ڈیجیٹل لائبریری میں بغیر کوئی اخراجات کیے اپلوڈ کرنے کی سہولت میسر ہے۔ چوہدری عبداللہ فیاض چٹھہ ، نوید طاہر، جواد رضا، نیاز علی شاہ رخ ، ثاقب وہاب اور دیگر ایچ ای سی کے افسران نے بھی اس اختتامی تقریب میں شرکت کی ۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء میں سرٹیفکیٹ تقسیم کیے گئے۔