عرب دنیا میں صدارت کے عہدے کے لئے خواتین امیدوار کی تعداد میں اضافہ

پیر ستمبر 09:50

قاہرہ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 ستمبر2019ء) ۔عرب دنیا میں متعدد خواتین سیاست دان صدر کے عہدے کی دوڑ میں شامل ہوتی رہی ہیں۔ تیونس میں 15ستمبر2019ء کو ہونیوالے صدارتی انتخاب میں خاتون امیدوار عبیر موسی بھی حصہ لے رہی ہیں۔روسی خبر رساں ادارے آر ٹی کے مطابق تیونس میں عبیر موسیٰ صدارتی الیکشن میں امیدوار ہیں۔عرب دنیا میں ان سے قبل متعدد خواتین صدارتی امیدوار رہ چکی ہیں۔

عبیر موسیٰ 2016ء سے الدستوری الحر (آزادآئینی)پارٹی کی چیئر پرسن ہیں ، تیونس میں2014ء کے صدارتی الیکشن میں ایک خاتون کلثوم کنّو نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔26مرد امیدواروں کے مقابلے میں واحد خاتون تھیں۔کلثوم کنّو تیونس میں جج کے عہدے پر فائز ہیں۔ ۔اس سے قبل الجزائر میں ایک خاتون لویزہ حنون صدارتی امیدوار بنیں۔

(جاری ہے)

یہ لیبر پارٹی کی سیکریٹری جنرل ہیں۔

الجزائراور عرب دنیا میں صدارتی انتخاب لڑنے والی پہلی خاتون ہیں۔ لویزہ حنون نے 2004ء میں صدارتی انتخاب میں حصہ لیا تھا۔ 2009ء میں بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے مگر صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ سے شکست کھا گئیں۔ یمن میں سرگرم خاتون سیاست داں اور صحافی سمیہ علی رجایہ بھی صدارت کے لیے میدان میں اتر چکی ہیں۔ دسمبر 2005ء میں صدارتی انتخاب میں امیدوار تھیں۔

انہیں یمن میں صدارتی امیدوار بننے والی پہلی خاتون کا اعزاز حاصل ہے۔ اسی طرح خاتون صحافی اور مصنف رشیدہ القیلی2006ء میں یمن کے صدارتی انتخاب میں امیدوار تھیں۔آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لیا تھا۔فلسطینی خاتون صحافی ماجدہ البطش2005ء کے دوران فلسطین کے صدارتی انتخاب میں امیدوار بنیں مگر نامزدگی جاری رکھنے کیلئے درکار دستخط حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔

فلسطین کے صدارتی انتخاب میں ایک اور خاتون سمیحہ خلیل جنہیں سندیانة فلسطین کے لقب سے پہچانا جاتا ہے حصہ لیا۔ 1996ء کے دوران فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے مقابلے میں صدارتی امیدوار بنی تھیں۔انہیں 11.5فیصد ووٹ ملے تھے۔ صومالیہ کے صدارتی انتخاب میں فاطمہ الطیب جنہیں فادومو دایب کے نام سے بھی جانا پہچانا جاتا ہے حصہ لیا۔فاطمہ الطیب کینیا میں پیدا ہوئیں۔

بچپن صومالیہ میں گزارا۔2016ء میں ہونے والے صومالیہ کے صدارتی الیکشن میں امیدوار تھیں۔ بعد ازاں صومالیہ سے فن لینڈ منتقل ہوگئیں۔ امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی سے بزنس مینجمنٹ میں ماسٹرز بھی کیا۔ سوڈان کی سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی الاتحاد کی رہنما فاطمہ عبدالمحمود نے 2010ء صدارتی انتخاب میں پہلی خاتون امیدوار کے طور پر حصہ لیا۔