گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق حکومت نے چیلنجزکے باوجود اقتصادی استحکام حاصل کر لیا: میاں زاہد حسین

آئی ایم ایف اور دوست ممالک کے تعاون سے معیشت شاک برداشت کرنے کے قابل ہو گئی ہے، اگر دعویٰ درست ہے تو متاثرہ کاروباری سرگرمیوں کو بحال کیا جائے

پیر ستمبر 18:50

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق حکومت نے چیلنجزکے باوجود اقتصادی استحکام ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 ستمبر2019ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے مشکل حالات کے باوجود اقتصادی استحکام حاصل کر لیا ہے اگر یہ دعویٰ درست ہے تو اب پالیسیوں میں نرمی لائی جائے۔

معیشت میں ڈیمانڈ کو کم کرنے پر فوکس سے ملک بھر میں اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور لارج اسکیل مینوفیکچرنگ خطرناک حد تک کم ہوگئی ہے جبکہ مارکیٹوں میں کاروبار کم ہوگیا ہے اور وینڈ نگ انڈسٹری بند ہونے کے قریب ہے جنھیں بحال کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ بلند شرح سود اور دیگر اقدامات سے ملک کی کاروباری سرگرمیاں شدید متا ثر ہوئی ہیں جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم آئی ایم ایف اور دوست ملکوں کے تعاون کی بدولت معیشت کو شاک سے بچانے کے قابل ہو گیا ہے جو خوش آئند ہے۔

(جاری ہے)

اب محاصل میں کمی، روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ، تاریخی بجٹ خسارہ اور کشمیر پربڑھتی ہوئی کشیدگی ملکی معیشت کے لئے سنگین مسئلہ بن سکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جاری حسابات کا خسارہ 13.6 ارب تک کم کر دیا ہے ہے جو پہلے اٹھارہ ارب ڈالر تھا جبکہ اس میں مزید کمی متوقع ہے جس کے لئے دیگر اقدامات کے ساتھ غیر ضروری درمدآت کی حوصلہ شکنی شامل ہے۔

3.8فیصد سے9فیصدمہنگائی میں روپے کی قدر میں زبردست کمی اور بلند شرح سود نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے جس سے عوام اور نجی شعبہ متاثر ہوئے ہیں جس کے نتیجہ میں شرح نمو بھی کم ہو رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ایک سال میں شرح سود ساڑھے 6 فیصد سے بڑ ھ کر 13.25 فیصد ہو چکی ہے جس کی وجہ سے بینک نجی شعبہ کے بجائے حکومت کو قرضہ دینے کو ترجیح دے رہے ہیں۔حکومت نے نئے مالی سال کے پہلے مہینے میں 1.37 کھرب کے قرضے لئے ہیں جو تشویشناک ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان حالات میں نجی شعبہ کے قرضوں کا حجم جو گزشتہ سال 618.2 ارب روپے تھا اب کم ہو کر 607.5 ارب روپے رہ گیا ہے جس میں مزید کمی آئے گی۔موجودہ مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ریونیو وصولی کا ہدف بھی پورا نہیں ہو، چیئرمین ایف بی آر کے مطابق ریو نیو کلیکشن میں 10فیصد کمی ہوئی ہے ۔اقتصادی عدم استحکام سے برآمدات اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری بھی متاثر ہو رہی ہے جو ملکی مفاد میں نہیں ہے۔