Live Updates

حکومت نے پاکستان تحریکِ انصاف کو فنڈز فراہم کرنے والوں کے لیے راستہ کھولا ہے: محمد زبیر

لاہور کے شہریوں کو میٹرو میں سبسڈی نہیں مل سکتی ، روٹی اور نان پر سبسڈی نہیں مل سکتی لیکن امیروں کو 260ارب کا ریلیف مل سکتا ہے: سابق گونر سندھ

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ بدھ 4 ستمبر 2019 00:34

حکومت نے پاکستان تحریکِ انصاف کو فنڈز فراہم کرنے والوں کے لیے راستہ ..
کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔03 ستمبر2019ء) سابق گونر سندھ اور رہنما پاکستان مسلم لیگ ن محمد زبیر نے کہا ہے کہ حکومت نے پاکستان تحریکِ انصاف کو فنڈز فراہم کرنے والوں کے لیے راستہ کھولا ہے۔ لاہور کے شہریوں کو میٹرو میں سبسڈی نہیں مل سکتی ، روٹی اور نان پر سبسڈی نہیں مل سکتی لیکن امیروں کو 260ارب کا ریلیف مل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ صدارتی آرڈیننس سے امیروں کیلئے راستہ کھولا گیا ہے، یہ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو تحریک انصاف کو فنڈ دیتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو فائدہ دیا گیا ہے جنہوں نے پاکستان تحریکِ انصاف کو فنڈز فراہم کیے اور اب کہتے ہیں کہ ہمارا کاروبار ہی تباہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہ میں نے تو معیشت عمران خان سے سیکھی ہے جوکہتے تھے کہ یہ کسی کا پیسہ نہیں کہ منہ اٹھا کر معاف کردیا جائے ۔

(جاری ہے)

ان کا کہناتھا کہ جب ن لیگ کے دور میں قیمتیں بڑھتی تھیں تو یہ پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر کہتے تھے کہ قیمتیں کس کوفائدہ پہنچانے کیلئے بڑھائی ہیں اور اب ہم پوچھتے ہیں کہ یہ قیمتیں کس لئے بڑھائی جارہی ہیں؟ واضح رہے تحریک انصاف کی حکومت نے گیس انفرا اسٹرکچرڈیویلپمنٹ کی مد میں واجبات نکلوانے میں ناکامی پر صنعتکاروں کے ذمے 208 ارب روپے ٹیکس معافی کا آرڈیننس جاری کیا۔

جس پر میڈیا اور اپوزیشن نے خوب شور مچایا۔ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں ڈی جی گیس کے بیان میں بتایا گیا کہ اس ضمن میں صدارتی آرڈیننس حتمی مراحل میں ہے‘ حکومت نے جن صنعتکاروں کے واجبات معاف کیے ان میں سے زیادہ ترکراچی کے ہیں یہ رقم1971ء سے لے کر2009ء تک معاف کیے گئے قرضوں کے قریباً برابر ہے۔ سپریم کورٹ میں چند برس پہلے پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق اس عرصے کے دوران کمرشل بینکوں نے 256 ارب کے قرضے معاف کئے۔

موجودہ صورتحال میں مجوزہ طورپرمعاف کیے جانے والے واجبات 208 ارب سے بڑھ سکتے ہیں جو دسمبر2018ء تک 416ارب 30کے لگ بھگ تھے۔ مجوزہ صدارتی آرڈی ننس کے ذریعے کیمیائی کھاد، ٹیکسٹائل ، توانائی اورسی این جی شعبے کے ذمے آدھی رقم معاف کردی جائے گی۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے بڑے صنعتکاروں کو ٹیکس معاف کرنے کا نوٹس لے لیا ہے، انہوں نے کہا کہ کسی کو ٹیکس معاف نہیں کیا جائے گا،جی آئی ڈی سی کے حوالے سے تمام کمپنیوں کا آڈٹ کروایا جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے بڑے صنعتکاروں کو208 ارب روپے کا ٹیکس معاف کرنے کا نوٹس لے لیا ہے۔
Live پاکستان تحریک انصاف سے متعلق تازہ ترین معلومات