مریم نواز اپنی جارحانہ پالیسی نہ چھوڑنے پر بضد، مریم نواز کی ہدایات پر اسٹیبلشمنٹ اور اداروں کے خلاف نعرے بازی

مسلم لیگ ن کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ رہنماؤں سے نعرے لگوائے گئے ، جس کی ہدایت مریم نواز کے میڈیا سیل اور سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کی تھی، منصوبہ بندی میں بھارتی میڈیا کو استعمال کرنے کی بھی منصوبہ بندی کر لی گئی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات ستمبر 11:04

مریم نواز اپنی جارحانہ پالیسی نہ چھوڑنے پر بضد، مریم نواز کی ہدایات ..
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 05 ستمبر 2019ء) : مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اس وقت نیب کی حراست میں ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنی جارحانہ پالیسی پر کوئی سمجھوتہ یا نرمی نہیں کی۔ مریم نواز کی نیب عدالت میں پیشی کے موقع پر بھی اسٹیبلشمنٹ اور اداروں کے خلاف نعرے بازی ہوتی رہی جس سے متعلق خبریں موصول ہوئی ہیں کہ یہ نعرے بازی مریم نواز اور پرویز رشید کی ہدایات پر کی گئی تھی۔

اس حوالے سے قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ مریم نواز کی نیب کورٹ میں پیشی کے موقع پر مسلم لیگ ن کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ رہنماؤں کو وہاں بلا کر دوبارہ اہم اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے کی ہدایت کی گئی۔ نعرے بازی بھی مریم نواز کے میڈیا سیل اور سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید کی ہدایت پر ہوتی رہی۔

(جاری ہے)

با وثوق ذرائع کے مطابق مریم نواز کی ہدایت پر گذشتہ روز ان کی نیب کورٹ میں پیشی کے موقع پرپرویز رشید، نہال ہاشمی، جاوید ہاشمی، سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم سمیت ایسے رہنماؤں کو خاص طور پر بُلایا گیا تھا جو ماضی میں اسٹیبلشمنٹ اور اداروں کے خلاف سخت ترین زبان استعمال کرتے رہے ہیں۔

پیشی پر سب کچھ ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا اور باقاعدہ سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید اور مریم نواز کے سوشل میڈیا کے چار متحرک رہنما ن لیگی کارکنوں کو اہم اداروں کے خلاف نعرے لگانے کی تلقین کرتے اور شاباش بھی دیتے رہے ، پھر مسلم لیگ ن سوشل میڈیا سیل کے لوگ اداروں کے خلاف اس نعرے بازی کو سوشل میڈیا پر شئیر بھی کرتے رہے ۔ جس وقت اداروں کے خلاف نعرے بازی شروع ہوئی تو یوسف عباس نے فوری منع کرنے کی کوشش کی لیکن کیپٹن (ر) صفدر اور مریم نواز نے انہیں خاموش کروا دیا ۔

نعرے بازی کی فوٹیج تین غیر ملکی چینلز کو بھیجنے کے حوالے سے مریم نواز نے ہدایت کی جس پرپرویز رشید نے مُسکرا کر کہا اب تک پہنچ بھی گئی ہیں ۔ اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور اداروں کے خلاف سخت رویہ رکھنے والے ان رہنماؤں کو مریم نواز کی طرف سے یہ پالیسی دی گئی ہے ۔ پالیسی کے مطابق اداروں پربھرپور تنقید یہ رہنما کریں اور مریم نوازفی الحال خاموش رہیں جبکہ اس مقصد کے لیے باقاعدہ انٹرنیشنل با لخصوص بھارتی میڈیا کو استعمال کرنا بھی منصوبہ بندی کا حصہ ہے ۔

اس ضمن میں باقاعدہ ایک علیحدہ سیل بنا دیا گیا جو اداروں کے خلاف تنقید کو بھرپور سپورٹ کرنے سے لے کر دیگر معاملات میں آگے لے کر چلے گا ۔ ذرائع کے مطابق احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر حمزہ شہباز کو جب اداروں کے خلاف سخت ترین زبان استعمال کرنے کاعلم ہوا تو انہوں نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اوروہ اس وقت تک اوپر نہ آئے جب تک نعرے بازی ختم نہ ہوئی۔

مریم نواز اور سابق وزیر اطلاعات کی ہدایت پر سابق چئیرمین پیمرا ابصار عالم کو بھی من پسند صحافیوں کی لابی تیار کرنے کا ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مسلم مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی ذاتی ٹیم موجودہ حالات میں اہم قومی ادارے کو تنقید کا نشانہ بنا کر غیر ملکی قوتوں کو خوش کرنا اورذاتی فائدہ اُٹھانا چاہ رہی ہیں ۔ جبکہ مریم نواز کسی طور بھی اپنے جارحانہ اور اینٹی اسٹیبشلمنٹ مؤقف میں نرمی یا لچک نہیں چاہتیں۔