سندھ ہائیکورٹ نے 14 برس سے زیر التوا انکوائریز 2 ماہ میں نمٹانے کا حکم دے دیا

جمعرات ستمبر 16:57

سندھ ہائیکورٹ نے 14 برس سے زیر التوا انکوائریز 2 ماہ میں نمٹانے کا حکم ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 ستمبر2019ء) سندھ ہائیکورٹ نے 14 برس سے زیر التوا انکوائریز 2 ماہ میں نمٹانے کا حکم دے دیانیب رپورٹ کے مطابق 155 نیب انکوائریاں سندھ بھر زیرالتوا ہیں۔چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ کی سربراہی میں جسٹس عمر سیال پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو نیب نے زیر التوا پرانی انکوائریز کی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

رپورٹ کے مطابق نیب سندھ میں 14 سال سے اب تک 155 انکوائریز زیر التو ہیں۔ صرف کراچی میں اربوں روپے کرپشن کی 97 انکوائریز نتائج کی منتظر ہیں۔ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی نیب کی کارکردگی پر برہم ہوگئے۔ چیف جسٹس نے ریماکس دیئے کیا نیب اپنی کارکردگی سے مطمئن ہی اس طرح تو کام نہیں چلے گا۔ ہم چیئرمین نیب کو ہی سمن جاری کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے ڈی جی نیب آپریشن سے مکالمہ میں کہا کہ اگر آپ کیخلاف 14 برس انکوائری زیر التوا رہے تو آپ تنگ آکر مستعفی ہوجائیں گے۔

ڈی جی آپریشنز نیب نے بتایا کہ بعض انکوائریز عدالتوں کے حکم امتناعی کی وجہ سے زیر التوا ہیں۔ چیف جسٹس نے ریماکس دیئے لگتا ہے نیب ٹیکس آرڈیننس میں ترمیم کا انتظار کررہا ہے۔ ٹیکس آرڈیننس میں ترمیم سے معاملہ ایف بی آر کو چلا جائے پھر سب کی موجاں۔ عدالت نے 14 برس سے زیر التوا انکوائریز 2 ماہ میں نمٹانے کا حکم دے دیا۔