پاکستان آئی ایم ایف کے دیئے اہداف حاصل کرنے میں ناکام

عالمی مالیاتی ادارے کی تنیکی ٹیم 17ستمبر کو پاکستان آئے گی

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ ستمبر 12:29

پاکستان آئی ایم ایف کے دیئے اہداف حاصل کرنے میں ناکام
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔06 ستمبر۔2019ء) آئی ایم ایف اہداف میں ناکامی اور بجٹ خسارے کے باعث ہنگامی مذاکرات کیلئے عالمی مالیاتی ادارے کا وفد 17 ستمبر کو پاکستان آئے گا، فنڈ کی ٹیم وزارت خزانہ اور دیگر وزارتوں کو بجٹ خسارے میں کمی لانے کے طریقے اور ذرائع بتائے گی. معیشت کے مالی محاذ کی خراب ہوتی صورتحال کے باعث آئی ایم ایف نے اپنا ایس او ایس (سیو آر سول) مشن اس ماہ پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جو بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے میں کمی لانے کے طریقے اور ذرائع بتائے گا.

(جاری ہے)

آئی ایم ایف ٹیم مطلوبہ حدود میں بنیادی خسارے کے ہدف کو محدود رکھنے کی خصوصی توجہ کے ساتھ مالی مسائل پر گفتگو کرے گی‘ پاکستان نے ابتدائی طور پر اہداف پر دوبارہ بات چیت کا آپشن پیش کیا ہے جن کا تصور مالی محاذ پر ابھرتی ہوئی نئی حقیقتوں کے تناظر میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کیا گیا تھا جیساکہ ایف بی آر کے سہہ ماہی ہدف کو ستمبر 2019 کے اختتام تک 1.071 ٹریلین سے کم کرکے ایک ٹریلین کرنے کی درخواست کی گئی ہے.

نجی ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اورآئی ایم ایف ٹیم کے درمیان بدھ کو ایک وڈیو کانفرنس ہوئی جس میں فنڈ کے عملے نے 30 جون 2019 کو ختم ہونے والے گزشتہ مالی سال میں بجٹ خسارے میں تیزی سے اضافے پر اپنے سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا تھاجس نے ان تمام تخمینوں کو غلط ثابت کردیا جنہیں آئی ایم ایف اور وزارت خزانہ نے 39 ماہ کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی ( ای ایف ای) کے تحت 6 ارب ڈالز کی آئی ایم ایف ڈیل کے وقت لگایا گیا تھا.

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی ایک تکنیکی ٹیم عاشورہ محرم کے بعد 17 ستمبر کو پاکستان آئے گی جو ممکنہ طور پر 10 دن ٹھہرے گی. مالی اہداف خصوصاً بنیادی خسارے ک حوالے سے بڑے پیمانے پر غلط بیانی کی گئی ہے جیسا کہ آئی ایم ایف نے بنیادی خسارے کو رواں مالی سال جی ڈی پی کے 1.8 فیصد سے کم کرکے 0.6 فیصد کرنے کی شرط رکھی ہے‘ اب بنیادی خسارہ جی ڈی پی کے 3.6 فیصد تک بڑھ گیا ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ 1300 ارب روپے کی بڑی ایڈجسٹمنٹ بنیادی خسارے کو جی ڈی پی کے 0.6 فیصد تک لانے کیلئے کیسے کی جاسکیں گی.

اعلیٰ سرکاری ذرائع نے آئی ایم ایف کی تکنیکی ٹیم کی اس جاری ماہ میں پاکستان آمد کی تصدیق کی ہے. ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والی تکنیکی ٹیم وزارت خزانہ اور دیگر وزارتوں کو ٹیکس اور نان ٹیکس ریوینیو کلیکشن پر مدد فراہم کرے گی تاکہ مالی نقصان میں جانے والے ریاستی اداروں کو روکا جاسکے اور مرکزی بینک کے محاذ سے متعلق مسائل پر اسٹریٹجی تیار کی جائے.

آئی ایم ایف ٹیم نے بجٹ خسارے میں اضافے کی وجوہات کے حوالے سے انکوائری کی جیسا کہ دونوں فریقین نے اپریل 2019 میں تخمینہ لگایا تھا کہ بجٹ خسارہ گزشتہ مالی سال 2018-19 کیلئے جی ڈی پی کے 7.2 فیصد کو چھوسکتا ہے، اس لئے یہ تخمینہ جی ڈی پی کے 1.8 فیصد پر تخمینہ لگائے گئے بنیادی خسارے کے ساتھ آئی ایم ایف پروگرام کی بنیاد بنا. آئی ایم ایف نے سوال اٹھایا کہ جب آئی ایم ایف پروگرام کی بنیاد ہی ہل چکی ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ موجودہ مالی سال کیلئے تصور کئے گئے اہداف کو کیسے حقیقی صورت دی جاسکے گی.

پاکستانی ٹیم نے وضاحت کی کہ ایف بی آر نے مختلف پالیسی مسائل اور معیشت کی سست روی کے باعث خسارے کا سامنا کیا‘نان ٹیکس ریونیو کے محاذ پر ان کا کہنا تھا کہ موبائل آپریٹرز کے لائسنسز کی تجدید کو حقیقی صورت نہیں دی جاسکی لیکن اب 70 ارب روپے وصول ہوگئے ہیں. 2 آر ایل این جی پلانٹس فروخت نہیں ہوسکے اور انہیں امید ہے کہ یہ ٹرانزیکشن موجودہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ہوجائے گی‘ مرکزی بینک کا منافع ڈی ویلیو ایشن کی وجہ سے کم ہوا. ان تمام منفی ڈویلپمنٹ کے باعث بجٹ خسارہ گزشتہ مالی سال کیلئے جی ڈی پی کے 8.9 فیصد تک بڑھا ہے موجودہ مالی سال کے اہداف پر ایف بی آر نے آئی ایم ایف ٹیم کو بتایا ہے کہ وہ 5.5 ٹریلین روپے کی سالانہ ٹیکس کلیکشن کرنے والے ہیں.