فضائی حدود بند ہونے سے پاکستان کو 8ارب جبکہ بھارت کو 28ارب کا نقصان ہو چکا ہے: غلام سرور خان

ڈھائی تین ماہ پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے سے پاکستان کو نقصان کم اور بھارت کو کہیں زیادہ نقصان ہوا: وفاقی وزیر برائے ہوا بازی

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ ہفتہ ستمبر 20:38

فضائی حدود بند ہونے سے پاکستان کو 8ارب جبکہ بھارت کو 28ارب کا نقصان ہو ..
اسلام آباد (اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 ستمبر2019ء) وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ فضائی حدود بند ہونے سے ڈھائی تین ماہ پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے سے پاکستان کو نقصان کم اور بھارت کو کہیں زیادہ نقصان ہوا۔ غلام سرور خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود 2فروری کے واقعے پر بند تھی جو 15,16جولائی کی رات کھلی اور اس پابندی کے دوران فضائی حدود بند ہونے سے پاکستان کو 8 ارب جبکہ بھارت کو 28ارب کا نقصان ہوا۔

غلام سرور خان ے کہا ہے کہ اگر بھارت باز نہ آیا تو ہندوستان کی طرف سے آنے والی تمام فلائٹیں بند کرسکتے ہیں، بھارتی صدر کیلئے فضائی حدود بند کر دی ہے ،واپسی پر بھی استعمال کی اجازت نہیں دینگے ۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ 5 اگست 2019 سے کشمیر پر ہندوستان نے قبضہ کیا ہوا ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ وہاں انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں،مختلف 4000 لیڈران کو گرفتار کرکے جیل میں رکھا گیا ہے۔

انہوںنے کہاکہ کشمیری علاج معالجے سے قاصر ہیں وہ باہر نہیں نکل رہے۔انہوںنے کہاکہ مختلف ممالک روزانہ کی بنیاد پر وزیراعظم رابطہ کرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ پوری قوم کے جذبات تھے کہ جیسے ہندوستان کے ساتھ تجارت معطل کیا گیا،سفارتی تعلقات نچلی سطح تک لے گئے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارتی صدر کوپاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔

بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود اپنے صدر کیلئے استعمال کرنے کی درخواست کی تھی۔ بھارتی اتھارٹیزکومطلع کر دیا 8 ستمبر کو پاکستانی فضائی حدود سے بھارتی صدر نہیں گزرسکتے۔ بھارتی صدرکے طیار ے پرپاکستان کی فضائی حدود سے آنے جانے پرپابندی ہے۔ غلام سرور خان نے کہا کہ بھارت اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا اور کشمیریوں پرمظالم جاری رکھے تو دیگر آپشنز پربھی غور کررہے ہیں۔