بھارت آنے اورجانے والی تمام فلائٹس کی بندش زیرغور ہے،غلام سرور

بھارت اپنی حرکتوںسے باز نہ آیاتوآپشن موجودہے، بھارت کی وزارت خارجہ نے اپنے صدرکی آئس لینڈجانے کیلئے پاکستانی حدوداستعمال کرنے کی درخواست کی تھی مگرہم نے کہہ دیاکہ بھارتی صدرآئس لینڈنہ جانے اورنہ آنے کیلئے پاکستان کی فضائی حدوداستعمال کریگا،وفاقی وزیربرائے ہوابازی کی میڈیا سے گفتگو

ہفتہ ستمبر 22:32

بھارت آنے اورجانے والی تمام فلائٹس کی بندش زیرغور ہے،غلام سرور
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 ستمبر2019ء) وفاقی وزیربرائے ہوابازی غلام سرورخان نے کہاکہ بھارت آنے اورجانے والی تمام فلائٹس کی بندش زیرغور ہے،بھارت اپنی حرکتوںسے باز نہ آیاتوآپشن موجودہے، بھارت کی وزارت خارجہ نے اپنے صدرکی آئس لینڈجانے کیلئے پاکستانی حدوداستعمال کرنے کی درخواست کی تھی مگرہم نے کہہ دیاکہ بھارتی صدرآئس لینڈنہ جانے اورنہ آنے کیلئے پاکستان کی فضائی حدوداستعمال کریگا، انڈیا کی ہر پرواز ہماری فضائی حدود استعمال کرتی ہے اوریہ فلائٹس بھی ہم بندکرسکتے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ ہم نے مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی جارحیت کیخلاف اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل میں آواز اٹھائی اوراقوام متحدہ کادوہرامعیار بتانے وزیراعظم جارہے ہیں،پوری قوم کے جذبات کے تحت بھارت کیساتھ تجارت معطل کردی اورسفارتی تعلقات نچلی سطح تک لے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

ان خیالات کااظہارانہوںنے پشاورمیںپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پروزیراعلیٰ کے ترجمان اجمل وزیربھی موجودتھے۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوںسے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیربرائے ہوابازی غلام سرورخان نے کہاکہ 5 اگست 2019 سے کشمیر پر ہندوستان نے قبضہ کیا ہوا ہے،مقبوضہ کشمیرمیںانسانی حقوق کی پامالی ہورہی ہے، مختلف 4000 لیڈران کو گرفتار کرکے جیل میں رکھا گیا ہے، کشمیری علاج معالجے سے قاصر ہیں وہ باہر نہیں نکل سکتے۔انہوںنے کہاکہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ظلم وستم کے متعلق وزیراعظم پاکستان مختلف ممالک سے روزانہ کی بنیاد پررابطہ کررہے ہیں، ہندوستان جیسا کررہا ہمیں بھی عملی طور پر مظاہرہ کرنا چاہیے۔

انہوںنے کہاکہ افغانستان ہمارا اسلامی برادر ملک ہیں ان کے ساتھ ہمارا اچھا تعلق ہے،پاکستان میںامن کاقیام افغانستان میں امن سے مشروط ہے۔انہوںنے کہاکہ صرف سڑکوںپرنکلنے سے نہیںبلکہ عملی طورپربتاناچاہتے ہیںکہ ہم کشمیریوںکیساتھ ہیں۔