مسلسل موسلادھار بارشیں، آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں بھی خوفناک حد تک اضافہ

خشک سالی کا شکار رہنے والے علاقے تھر کا موسم بدل گیا، ایک ماہ کے دوران 15 سے زائد افراد جاں بحق

اتوار ستمبر 00:05

مسلسل موسلادھار بارشیں، آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں بھی خوفناک ..
تھر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 ستمبر2019ء) مون سون بارشوں کے جاری حالیہ سلسلے کے دوران تھرپارکرمیں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات کئی سوگنابڑھ گئے ہیں جس کی وجہ سے ایک ماہ کے دوران پندرہ سے زائدانسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں جبکہ تین سوسے زائد چھوٹے بڑے مویشی ہلاک ہوگئے ہیں ناگہانی سماوی آفت کے گرنے کے واقعات میں نہ صرف تھرپارکربلکہ اس سے ملحقہ بیراجی علاقوں میں اضافہ ہوگیا ہے اس صورتحال میں تھری اورملحقہ بیراجی علاقوں کے عوام میں شدیدخوف و ہراس پھیل گیا ہے اورلوگ بارش کا ماحول بنتے ہی نہ صرف خودگھروں سے باہرنکلنے سے گریزکررہے ہیں بلکہ وہ اپنے بچوں کو بھی بارش میں نہانے یاکھیلنے سے سختی کے ساتھ منع کررہے ہیں پنگریو۔

تھرپارکر اورزیریں سندھ کے دیگرعلاقوں میں جاری مون سون بارشوں کا جاری سلسلہ جہاں پرشدیدخشک سالی کے شکاران علاقوں کے عوام۔

(جاری ہے)

مویشیوں اورچرندپرندکے لیے خوشی کاباعث بنا ہے وہیں پراس سلسلے کے دوران آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں تشویشناک حد تک ہونے والے اضافے اوراس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اورمویشیوں کی ہلاکتوں سے ان علاقوں کے عوام کی خوشیاں ماندپڑگئی ہیں اورخوشیوں کی جگہ خوف اورڈرنے لے لی ہے مون سون بارشوں کے سلسلے کے دوران ایک ماہ کے عرصے میں تھرپارکرکے مختلف علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں پندرہ سے زائد افراد اورسیکڑوں چھوٹے بڑے مویشیوں کی اموات ہوچکی ہیں تاہم خوش قسمتی سے بجلی گرنے کے واقعات اس سے بہت زیادہ ہونے کے باوجودجانی اورمالی نقصانات کم ہوئے ہیں تھرپارکرکے مختلف علاقوں سے حاصل کی جانے والی معلومات کے مطابق تھرپارکرکے کئی ایک مقامات پر پچاس پچاس دفعہ سے بھی زائدبارآسمانی بجلی گرنے کے واقعات پیش آئے ہیں مگراکثرطورپرآسمانی بجلی املاک یا خالی مقامات پرگرتی رہی ہے جس کی وجہ سے جانی اورمالی نقصانات بجلی گرنے کے واقعات کے مقابلے میں کم ہوئے مگربجلی گرنے کے واقعات کے باعث لوگوں کی سانسیں مٹھی میں آگئی ہیں جبکہ پنگریو اورتھرپارکرسے ملحقہ بیراجی علاقوں میں بھی ایسے واقعات اوربجلی کی کڑکڑاہٹ میں اضافے نے بیراجی علاقوں کے عوام میں بھی خوف وحراس پھیلا دیا ہے اس خطرناک صورتحال کے باوجودمتعلقہ ادارے خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں اورکسی بھی ادارے۔

حکومت یاانتظامیہ نے صورتحال پرغورکرنابھی مناسب نہیں سمجھا۔مقامی موسمیاتی ماہرین کے مطابق تھرپارکراورملحقہ علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں اضافہ موسمیاتی تبدیلیوں اورزیرزمین معدنی ذخائر کے باعث ہورہا ہے اس قدرتی آفت سے ہونے والے نقصانات سے بچاو کے لیے وفاقی۔سندھ حکومت۔این ڈی ایم اے اورپی ڈی ایم اے کو فوری طورپرمتحرک ہونا چاہیے بصورت دیگر اس سماوی آفت کے باعث جانی اورمالی نقصانات میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔

متعلقہ عنوان :