ایس ای سی پی ایپلیٹ بینچ نے ٹیلی کام کمپنی پر پندرہ لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا

قابل اعتراض منافع منقسمہ کی ادائیگی کو روکا جائے اور پہلے سے اداکئے گئے منافع منقسمہ کی واپسی کی جائے ، ایپلٹ بینچ کا حکم

اتوار ستمبر 12:30

ایس ای سی پی ایپلیٹ بینچ نے ٹیلی کام کمپنی پر پندرہ لاکھ روپے جرمانہ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 ستمبر2019ء) سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ایپلٹ بینچ نے ٹیلی کام کمپنی پاکستان موبائل کمیونیکیشن پر کمپنی کے ڈیوڈنڈ کیخلاف قانون تقسیم پر پندرہ لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ کمیشن کے اپیلٹ بینچ نے جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ ساتھ حکم دیا ہے کہ قابل اعتراض منافع منقسمہ کی ادائیگی کو روکا جائے اور پہلے سے اداکئے گئے منافع منقسمہ کی واپسی کی جائے اور اسے جمع کروایا جائے ایس ای سی پی کے چئیرمین اور کمشنرکمپنی لاء ڈویژن عامر خان اور کمشنراینٹی منی لانڈرنگ فرخ سبزواری پر مشتمل اپیلٹ بینچ نے پاکستان موبائل کمیونیکیشن کی اپیل پر فیصلہ کرتے ہوئے ۔

ایس ای سی پی کے ڈائریکٹر کارپوریٹ کمپلائنس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کئے گئے انفورسمنٹ آڈر کے تحت کمپنی کے چیف ایگزیکٹو پر پانچ لاکھ روپے اور کمپنی دس لاکھ روپے کا مجموعی جرمانہ عائد کرنے کے حکم کو برقرار رکھا ہے اور کمپنی کو فوری طورپر منافع منقسمہ کی ادائیگی روکنے اورپہلے سے اداکئے گئے منافع منقسمہ کی وصولی اور اسے جمع کروانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

(جاری ہے)

کمیشن کے فیصلے میں کمپنیوں کے ڈیوڈنڈ اور اس کی تقسیم کے حوالے کئی مسائل کو واضح کیا ہے۔ اپیلٹ بینچ نے فیصلے میں واضح کیا کہ کمپنیز ایکٹ 2017 کے مطاق غیر منقولہ پراپرٹی اور اثاثوں کی فروخت سے حاصل رقم کو کمپنی کے منافع منقسمہ ( ڈیوڈنڈ) کے طور پر تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ حکم نامے کے مطابق کمپنی کے کپیٹل اثاثہ جات کی فروخت سے حاصل رقم کو کمپنی کے شئیر ہولڈروں میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا تا آنکہ کہ کمپنی کو قانونی طریقے سے بند کیا جا رہا ہو۔

اپیلٹ بینچ نے فیصلہ میں لکھا ہے کہ کمپنی کے اثاثے فروخت کر کے حاصل شدہ فنڈز کو صرف اور صرف کمپنی کے کاروبار ی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بینچ نے کمپنی کی جانب سے کمپنیوں کے موبائل ٹاورز کی اصلی ویلیو کو کمپنی کے منافع میں شامل کرنے کا بھی جائزہ لیا۔ بینچ کا کہنا ہے کہ کمپنی کی جانب سے کمپنی کے موبائل ٹاورز کی ویلیو کو غلط طور پر کمپنی کی آمدنی میں ظاہر کیا گیا کیونکہ کمپنی کا کاروبار ٹارو کی تنصیب یا اس سے متعلق کام نہیں ہے۔

کمپنی نے مالی سال 2017کے آکا?وئنٹ میں ستترارب روپے سے زائد کا منافع ظاہر کیا جس میں انسٹھ ارب ، انتیس کروڑ روپے کمپنی کے خالص اثاثہ جات کی منتقلی اور ساٹ کروڑ چونسٹھ لاکھ روپے فلسڈ اثاثہ جات کے ڈسپوزل سے حاصل ہوئے۔ ک کمپنی نے اپنے اثاثہ جات ایک دوسری پرائیویٹ کمپنی کے فروخت کر دئے ہیں جن سے حاصل آمدنی کمپنی کے کل منافع کا چھہتر فیصد ہے۔

ٹیلی کام کمپنی نے سال 2017 کے لئے چونتیس ارب اکیاسی کروڑ سے زائد کا ڈیوڈنڈ کمپنی کے شئیر ہولڈروں کے لئے جاری کیا۔ اپیلٹ بینچ کے اہم حکم کے مطابق اثاثوں سے حاصل آمدنی کی طور منافع تقسیم کمپنیز ایکٹ 2017 کے سکیشن 2040, 2041 اور سیکشن 502 کی خلاف ورزی ہے اس لئے بینچ نے منافع منقسہ ( ڈیوڈنڈ) کی تقسیم کو روکنے کے ساتھ ساتھ کمپنی اور کمپنی کے چیف ایگزیکٹو پر جرمانہ عائد کیا۔