فردوس عاشق اعوان کا کئی دہائیوں سے بند صنعتوں کو بحال کر نے کافیصلہ

حکومت مزدورں کے حقوق کا ہر ممکن تحفظ کریگی ،صنعتیں نہیں چلیں گی تو بر آمدات کا ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا ،ٹیکسٹائل انڈسٹری سے وابستہ افراد سے ملکر روڈ میپ تیار ترتیب دینگے ، صحت انصاف کارڈ منصوبے میں میڈیا ورکرز کو بھی شامل کیا جا رہا ہے،اخبار فروشوں کو صحت انصاف کارڈ کی سہولت دی جائیگی،حکومت اسحاق ڈار کو وطن واپس لانے کیلئے قانونی طریقے اختیار کریگی، معاون خصوصی کی میڈیا سے با ت چیت

اتوار ستمبر 14:50

فردوس عاشق اعوان کا کئی دہائیوں سے بند صنعتوں کو بحال کر نے کافیصلہ
سیالکوٹ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 ستمبر2019ء) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈا کٹرفردوس عاشق اعوان نے کئی دہائیوں سے بند صنعتوں کو بحال کر نے کافیصلہ کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت مزدورں کے حقوق کا ہر ممکن تحفظ کریگی ،صنعتیں نہیں چلیں گی تو بر آمدات کا ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا ،ٹیکسٹائل انڈسٹری سے وابستہ افراد سے ملکر روڈ میپ تیار ترتیب دینگے ، صحت انصاف کارڈ منصوبے میں میڈیا ورکرز کو بھی شامل کیا جا رہا ہے،اخبار فروشوں کو صحت انصاف کارڈ کی سہولت دی جائیگی،حکومت اسحاق ڈار کو وطن واپس لانے کیلئے قانونی طریقے اختیار کریگی۔

اتوار کو یہاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ حکومت قائد اعظم کے پاکستان کی پاسبان بن کر سب کے حقوق کو تحفظ دیگی۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ سیالکوٹ دنیا میں صنعتی لحاظ سے جانا پہچانا شہر ہے،وزیراعظم نے کاروبار میں آسانیاں پید کرنے کیلئے اقداما ت کیے ہیں۔انہوںنے کہاکہ صنعتوں کے فروغ کیلئے حکومت نے عملی اقدامات اٹھائے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بند صنعتوں کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوںنے کہاکہ حکومت مزدوروں کے حقوق کا ہرممکن تحفظ کرے گی۔انہوںنے کہاکہ صنعتیں نہیں چلیں گی تو برآمدا ت کا ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا۔انہوںنے کہاکہ بے روزگار ی اور مہنگائی کے خاتمے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ کاروباری طبقے کے حقوق کا بھی تحفظ کیا جائے گا۔

انہوںنے کہاکہ ملکی برآمدات بڑھانے میں ٹیکسٹائل کے شعبے کا اہم کردار رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ ٹیکسٹائل صنعت کی بحالی کیلئے ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا گیا ۔انہوںنے کہاکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرینگے۔انہوںنے کہاکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری سے وابستہ افراد سے ملکر روڈ میپ ترتیب دینگے۔انہوںنے کہاکہ تاریخ کا سب بڑا قرض اور تجارتی خسارہ حکومت کو ورثے میں ملا۔

انہوںنے کہاکہ حکومت نے 2200ارب روپے قرضوں کے سود کی مد میں ادا کیے ہیں۔معاون خصوصی نے کہاکہ حکومت اسحاق ڈار کو وطن واپس لانے کیلئے قانونی طریقے اختیار کریگی۔ انہوںنے کہاکہ حکومت کو مہنگائی اور بے روزگاری سے عوام کو درپیش مسائل کا ادراک ہے،صحت انصاف کارڈ منصوبے میں میڈیا ورکرز کو بھی شامل کیا جا رہا ہے،اخبار فروشوں کو صحت انصاف کارڈ کی سہولت دی جائے گی۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ملک کو مسائل سے نکالنے کے لئے کفایت شعاری کو اپنانا ہوگا، ملک میں ایک مخصوص ٹولہ پراپیگنڈا کر رہا ہے کہ حکومت نے زیادہ قرضے لیے ہیں، ہمیں لڑکھڑاتی معیشت کے ساتھ حکومت ملی تھی، حکومت نے کوئی ایسا قرضے نہیں لیا، روپے پر دباؤ آنے کے بعد اس سال 5 ہزار ارب سے تجاوز کیا، طعنے دینے والوں نے اس معیشت کو زہر کا ٹیکا لگایا۔معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ احساس پروگرام کے ذریعے ہیلتھ کارڈ، سوشل سکیورٹی، آسان قرضے اور زراعت سے جڑے افراد کے لیے سہولیات کا آغاز کیا گیا ہے، وزیر اعظم کا ترقی کا خواب عوام کے ساتھ ملکر پورا ہوگا۔