تشدد اور غیر قانونی حراست چُھپانے کے لیے راولپنڈی پولیس نے موبائل فون پر پابندی عائد کر دی

ضلع بھر کے پولیس اسٹیشنز میں پولیس افسران اوراہلکاروں کے اسمارٹ فون استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی گئی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر ستمبر 11:15

تشدد اور غیر قانونی حراست چُھپانے کے لیے راولپنڈی پولیس نے موبائل فون ..
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 09 ستمبر 2019ء) : غیر قانونی حراست اور تشدد کو چھُپانے کے لیے راولپنڈی پولیس نے انوکھا فیصلہ کر لیا ۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر میں پولیس کی جانب سے شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور ان کی غیر قانونی حراست کے حوالے سے ویڈیوز منظر عام پر آئیں جس پر عوام کا شدید رد عمل بھی آیا۔ جس کے بعد اب راولپنڈی پولیس نے اپنے غیر قانونی اور پُر تشدد اقدمات کو چھپانے کے لیے پولیس اہلکاروں کے موبائل فونز پر پابندی عائد کرنے کا انوکھا فیصلہ کر لیا ہے۔

سی پی او راولپنڈی فیصل رانا نے پولیس افسران سے میٹنگ کے بعد تحریری اطلاعی رپورٹ ضلع بھر کے ایس ایچ اوز اور سپروائزری افسران کو ارسال کردی جس میں آئندہ پولیس اسٹیشن میں کسی کو غیر قانونی حراست میں نہ رکھنے اور تشدد نہ کرنے کہ ہدایات درج ہیں۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ ضلع بھر کے تھانوں میں پولیس افسران اوراہلکاروں کے اسمارٹ فون استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، پولیس افسران و ملازمین عام موبائل فونز ، جن پر ویڈیو ریکارڈنگ نہ ہوسکے ، استعمال کرسکیں گے۔

پولیس اسٹیشن میں صرف ایس ایچ او اور ہیڈ محرر ٹچ اسکرین یا اینڈرائیڈ فون رکھ سکیں گے۔ پولیس اسٹیشن میں آنے والے کسی بھی شخص کے موبائل فون تھانے میں لے جانے پر پابندی عائد ہوگی ، ان سے موبائل فونز تھانوں کے گیٹ پر جمع کر لیے جائیں گے۔ دوسری جانب آئی جی پنجاب عارف نواز نے پولیس اہلکاروں کے موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی اور کہا کہ اگر کوئی اہلکار موبائل فون استعمال کرتا پایا گیا تو اسکے ساتھ انچارج کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔

آئی جی پنجاب عارف نواز نے لیڈی کانسٹیبل کی جانب سے ویڈیو بیان سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے صوبے بھر میں پولیس اہلکاروں کے موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ آئی جی آفس کی جانب سے آر پی اوز اورڈی پی اوز کو مراسلہ بھجوایا۔ مراسلے میں کہا گیا کہ ایس ایچ او اور انچارج سے نچلے رینک کا پولیس اہلکار ڈیوٹی کے دوران فون استعمال نہیں کرے گا، ڈیوٹی کے دوران کوئی بھی اہلکار ویڈیو نہیں بنائے گا اور نہ ہی اہلکار کو اپنے کسی افسر کی ویڈیو بنانے کی بھی اجازت نہیں ہو گی۔

مراسلے کے مطابق اگر کوئی اہلکار موبائل فون استعمال کرتا پایا گیا تو اس کے ساتھ انچارج کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ خیال رہے کہ پولیس حراست میں تشدد سے ہلاک ہونے والے شہری صلاح الدین کی ہلاکت کے بعد سے پولیس کے نجی ٹارچر سیلز اور قیدیوں پر کیے جانے والے تشدد کے خلاف کئی آوازیں بُلند ہوئیں جس کے بعد سے پولیس کے تشدد کی کئی ویڈیوز اور کہانیاں سامنے آئیں جن سے پولیس کے نجی ٹارچر سیلز کی قلعی کُھلی تھی۔