وزیراعظم کو گھر بھیجنے کا بیان؛ عامر لیاقت فردوس عاشق اعوان پر برس پڑے

وزیراعظم عمران خان کو گھر بھیجنے والے خود گھر چلے گئے،عمران خان کو ہم نے ووٹ دیا ہے کسی کا باپ انہیں ہٹا نہیں سکتا۔ عامر لیاقت کا ٹویٹ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر ستمبر 11:22

وزیراعظم کو گھر بھیجنے کا بیان؛ عامر لیاقت فردوس عاشق اعوان پر برس ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 9 ستمبر 2019ء) : مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ایک بیان دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر پرفارم نہیں کریں گے تو وزیراعظم کو بھی گھر جانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ سب کو پرفارم کرنا پڑے گا ورنہ جو کام نہیں کرے گا وہ گھر واپس جائے گا پھر چاہے وہ وزیراعظم ہو یا وزیراعلیٰ۔جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر عامر لیاقت حسین ایک بار پھر وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان پر برس پڑے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو گھر بھیجنے والے خود گھر چلے گئے۔انہوں نے کہا فردوس عاشق اعوان کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر نہیں پیش کیا جا رہا یہ سب کے سامنے واضح ہے۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ہم نے ووٹ دیا ہے کسی کا باپ انہیں ہٹا نہیں سکتا۔

۔خیال رہے کہ فردوس عاشق اعوان اور عامر لیاقت کے مابین اس سے قبل بھی اس طرح کی لفظی جنگ ہو چکی ہے۔

ہعامر لیاقت حسین نے وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات پر کڑی تنقید کی تھی۔ مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا کہ آج مجھے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ میں نے فردوس عاشق اعوان کو ان فالو کیاتھا۔ انہوں نے بے ہنگم گفتگو, تسلسل سے مسلسل فضول الفاظ کی دھول ، عمران خان کی ہدایات کے برعکس فردوسی بیانات کی یلغار نے تنگ کر کے رکھا ہوا ہے پوری قوم کو۔

انہوں نے اپنے ٹویٹر پیغام میں مزید کہا کہ پی ٹی وی میں سنگین بے قاعدگیوں کو تحفظ دینے کے سوا فردوس عاشق اعوان کو کیا آتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ آصف راڈو نے رمضان المبارک میں 50 روپے کا افطار باکس 250 میں دیا انہیں بتایا گیا، خاور اظہر کی خلاف ضابطہ تقرری، امین اختر اور عمیر معصوم کو ہیوی پیکچ پر مارکیٹنگ سونپنا، ان محترمہ کو کچھ نظر نہیں آتا۔

عامر لیاقت حسین نے کہاکہ عمران خان نے کہا جمعے کے روز 12 بجے سے 12:30 کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرنا ہے اور یہ فرماتی ہیں کہ جو جہاں موجود ہو وہ 30 منٹ کے لیے 12 بجے کھڑا ہوجائے" بات کرنےکا کوئی طریقہ ہوتا ہے۔ اپیل اور حکم میں فرق ملحوظ خاطر رکھیں ۔ قوم دل سے کشمیریوں کے ساتھ ہے حکم کی ضرورت نہیں ۔
۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین پارٹی سے نالاں ہیں۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا کہنا ہے کہ مجھے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ہ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ مجھے کیوں کوئی کام نہیں سونپا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پارٹی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ میں کوئی درباری نہیں ہوں۔ وزیراعظم عمران خان نے خود ہمیں یہی سکھایا ہے کہ جہاں جہاں غلطی ہو اُس کی نشاندہی کرو۔