نالوں کی صفائی کراچی کا مستقل حل نہیں ،سب سے پہلے کچرے کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے، وسیم اختر

سپریم کورٹ کے حکم پر ہمیں نالوں کی صفائی کے لیے 50 کروڑ روپے ملے تھے جسے ہم نے پورا سال استعمال کیا اور 38 نالے صاف کیے تھے ،انٹرویو

پیر ستمبر 16:20

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 ستمبر2019ء) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ نالوں کی صفائی کراچی کا مستقل حل نہیں ہے یہاں سب سے پہلے کچرے کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ایک انٹرویو میں میئر کراچی وسیم اختر نے کراچی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی ڈی ایم سی اور کے ایم سی کے ملازمین کا استعمال درست نہیں ہو رہا، کراچی کو 6 اضلاع میں تقسیم کیا گیا جس کا بجٹ بھی تقسیم ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ بنایا گیا جس میں اضلاع کو اختیار دیا گیا کہ وہ اس بورڈ میں آنا چاہیں تو آئیں۔ اگر ان کی مرضی پر ہی رکھنا تھا تو بورڈ کیوں بنایا گیا۔ کراچی کے کچھ ادارے سندھ حکومت کے دائرہ اختیار میں ہیں،کے پی ٹی، سول ایوی ایشن، ریلویز، کنٹونمنٹ بورڈز سمیت دیگر اداروں کو مختلف مقامات کا اختیار دیا گیا ہے وہ میئر کراچی کے اختیار میں نہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کراچی کا اصل بجٹ 16 ارب روپے کا ہے۔ جو اتنے بڑے شہر کے لیے ناکافی ہے۔ کراچی کے 16 ہسپتال کی مرمت اور دیکھ بھال مجھے دی ہوئی ہے تاہم اس کے پیسے نہیں دئیے ہوئے جبکہ کئی ایسے کام جو میئر کراچی کے کرنے کے ہیں وہاں سندھ حکومت کام کر رہی ہے۔وسیم اختر نے کہا کہ فائر بریگیڈ کی انتہائی خراب صورتحال ہے جس کے لیے ہم نے وفاقی حکومت کو بھی لکھا ہے اور امید ہے کہ ہمیں فائر بریگیڈ کی 50 گاڑیاں وفاق سے مل جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا پورا نظام ہی کرپٹ ہے لیکن اسے میں جہاں تک روک سکتا ہوں روکنے کی کوشش کر رہا ہوں،جسے روکنا ناممکن ہے کیونکہ ہر ہر سطح پر کرپشن ہو رہی ہے۔وسیم اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ہمیں نالوں کی صفائی کے لیے 50 کروڑ روپے ملے تھے جسے ہم نے پورا سال استعمال کیا اور 38 نالے صاف کیے تھے لیکن جب تک کچرے کا حل نہیں نکالا جائے گا نالے صاف نہیں رکھے جا سکیں گے۔

انہوں نے کراچی میں کیے گئے کام کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن(کے ایم سی) کے پاس 14 ہسپتال ہیں جہاں کراچی کے غریب لوگ آتے ہیں، ان ہسپتالوں کو بہتر کرنے کے لیے مخیر حضرات سے فنڈز لیا گیا۔ پارکوں پر ہونے والے قبضوں کو ختم کر کے انہیں اصل حالت میں لایا گیا۔ شہر بھر سے تجاوزات کو بڑی تعداد میں ختم کیا گیا۔میئر کراچی نے کہا کہ بڑے منصوبے سندھ حکومت نے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں اس لیے میں کسی بڑے منصوبے پر کام نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہم نے درخواست دی ہوئی ہے جس میں تمام اختیارات دینے کی بات کی گئی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ کراچی کے اختیارات کسی ایک کے پاس ہونے چاہئیں۔وسیم اختر نے کہا کہ کراچی پر تمام سیاسی جماعتوں کے اپنے اپنے عزائم ہیں اور کوئی ایک دوسرے کی مدد نہیں کرنا چاہتا۔ صرف بیانات کی حد تک سب ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کراچی سے کسی کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر علی زیدی نے جو نالوں کی صفائی کا کام کیا وہ عارضی تھا اب پھر نالوں کی وہی صورتحال ہو گئی ہے۔میئر کراچی نے کہا کہ پارٹی سے ہٹ کر اگر کراچی میں ترقیاتی کام کیا جائے گا تو کراچی بہتر ہو گا۔ کراچی میں سیوریج کا انفرا اسٹریکچر مکمل طور پر نیا بنانے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ اس کا کوئی حل نہیں ہو گا۔انہوں نے کہا کہ کراچی سے بدعنوانی کو ختم کرنا ہے تو اس نظام کو مکمل طور پر بدلنا ہو گا اور اصولوں سے ہٹ کر کچھ کام کرنے ہوں گے۔ اگر اسی طرح کا نظام چلتا رہا تو کراچی مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا۔