Live Updates

عالمی برادری کی بے حسی اور مسئلہ کشمیر سے لاتعلقی تاریخ کے بدترین المیہ کو جنم دے سکتی ہے،لیاقت بلوچ

پاکستان کے عوام کو بیدار رہنا ہو گا، سڑکوں پر نکلنا اور چوراہوں پر آنا ہو گا، اب بھارت کو کشمیر یوں پر ڈھائے گئے مظالم کا حساب دینا ہو گا،نائب امیرجماعت اسلامی

پیر ستمبر 20:30

عالمی برادری کی بے حسی اور مسئلہ کشمیر سے لاتعلقی تاریخ کے بدترین المیہ ..
' حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 ستمبر2019ء) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا کہ عالمی برادری کی بے حسی اور مسئلہ کشمیر سے لاتعلقی تاریخ کے بدترین المیہ کو جنم دے سکتی ہے، پاکستان کے عوام کو بیدار رہنا ہو گا، سڑکوں پر نکلنا اور چوراہوں پر آنا ہو گا، اب بھارت کو کشمیر یوں پر ڈھائے گئے مظالم کا حساب دینا ہو گا، پاکستان کلمہ کی بنیاد پر بنا تھا اور قرآن و سنت کے مطابق اس کا آئین تشکیل دیا گیا تھا، سیاسی حکومتوں اور فوجی آمریتوں نے آئین کی بالا دستی اور اس کی اصل روح کو قائم کرنے کے لیے اقدامات نہیں کئے جس کے باعث آج ملک مشکلات کا شکار ہے، تمام مسائل کا حل ملک میں دین کے نفاذ میں ہے، عمران خان جو اب تک یو ٹرن کی سیاست کرتے آئے ہیں ایک یو ٹرن قومی اتفاق رائے کے لئے بھی لیا جائے، افغانستان کے حالات اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں کہ ہم ان سے سبق حاصل کریں، افغانستان نے امریکا میں اربوں ڈالر جھونک دیئے لیکن پھر بھی ناکام رہا، امریکا افغانستان میں شکست کھا چکا ہے اگر اس نے طالبان سے مزاکرات نہ کئے تو یہ سودا اس کے لیے مزید مہنگا ثابت ہو گا۔

(جاری ہے)

وہ جماعت اسلامی حیدرآباد کے زیراہتمام مسجد قباء ہیرآباد میں سالانہ ایک روزہ دعوتی و تربیتی اجتماع عام سے خطاب کر رہے تھے، اجتماع سے مرکزی نائب امراء پروفیسر محمد ابراہیم، ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، مجاہد بلوچ، حافظ نصراللہ عزیز اور دیگر نے بھی خطاب کیا، اس موقع پر عبدالوحید قریشی، حافظ طاہر مجید، مشتاق احمد خان، ڈاکٹر سیف الرحمن اور دیگر بھی موجود تھے۔

تربیتی اجتماع سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ بھارت نے انتہائی قدم اٹھا لیا ہے اور اب وہ کشمیر کو دوسرا غزہ بنانے جا رہا ہے اس میں اس کو بین الاقوامی قوتوں کی درپردہ حمایت اور سرپرستی حاصل ہے، انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اپنی ذات کے خول سے باہر آ کر قومی قائد کا کردار ادا کرنا ہو گا، بات چیت کا مرحلہ گزر چکا اب عملی اقدام کی ضرورت ہے اس کے لئے قوم کو بھی متحد ہونا ہو گا اور بیدار بھی رہنا ہو گا سڑکوں پر نکلنا اور چوراہوں پر جمع ہونا ہو گا تاکہ حکمران کسی بین الاقوامی دبائو کا شکار نہ ہوں، انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اب پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ چکا ہے، معاملہ کرو یا مرو کا ہے، ماضی میں غلطیاں ہوئی ہیں اب ان کے ازالے کا وقت ہے، ہماری سفارتکاری کو بہتر بنانا ہو گا، دنیا میں اب اس مسئلہ سے ایک خوف پھیلا ہوا ہے، دنیا ایٹمی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی، دنیا کے اس خوف کو اپنا ہتھیار بنانا ہو گا، لیاقت بلوچ نے کہا کہ قومی اتفاق رائے سے مسئلہ کشمیر پر پالیسی بنانا ہو گی، 35 دن ہو گئے کشمیری ظلم و ستم برداشت کر رہے ہیں اور پاکستان کی آمد کے منتظر ہیں لیکن ٹوئٹ اور بیانات کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، انہوں نے کہا کہ جس طرح دہشت گردی ملک کا ایک اہم مسئلہ تھا اور پوری قوم اورسیاسی و عسکری قیادت نے مشترکہ نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا اور دہشت گردی سے چھٹکارہ حاصل کیااسی طرح مسئلہ کشمیر کے حوالے سے وزیراعظم نکلتے ایک ایک اسلامی ملک اورسلامتی کونسل کے دروازے کھٹکھٹاتے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوشش کرتے، انہوں نے کہا کہ آج کے حالات میں جماعت اسلامی کی ایک بڑی زمینداری ہے، ریاست مدینہ کی بات کرنے والے پہلی مرتبہ فوج اور حکومت ایک پیج پر نظر آئی جس پر عوام نے سکھ کا سانس لیا لیکن ہر آنے والا دن ملک و قوم کے لیے مسائل اور مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے، بے حیائی بڑھ گئی ہے، ملک اقتصادی بحران کا شکار ہے، پیداواری لاگت بڑھنے سے صنعتیں بند ہو رہی ہیں، سود کی لعنت نے معیشت کو تباہ کردیا ہے، موجودہ حکمران بھی پرانی روش پر چل رہے ہیں ،ضرورت اس بات کی تھی کہ ماضی کے نظام کو ختم کر کے سود سے چھٹکارہ حاصل کرتے، وفاقی شرعی عدالت کو واپس لایا جاتا ،باطل کے سامنے کشکول اٹھانے کے بجائے اپنی تجارت اور صنعت کو فروغ دیا جاتاتو آج پاکستان یورپ کا مریض بن کر نہیں عالم اسلام کے ماتھے کا جھومر بن کے چمکتا،انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہی اس ملک کو بحرانوں سے نکالے گی، جماعت اسلامی کے کارکن ہر محاذ پر کشمیریوں کی آواز بلند کریںگے۔

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان و سابق سینیٹر پروفیسر ابراہیم خان نے کہا کہ طالبان نے امریکا کے ناک میں نکیل ڈال دی ہے اور افغانستان نے ایک صدی میں تیسری سپر پاور امریکا کو بھاگنے پر مجبورکیا ہے، طالبان اور امریکا کے جو مذاکرات معطل ہوئے ہیں اور اس کی معیشت کا بیڑا غرق ہوگیا ہے تا ہم امریکا کے نکل جانے کے بعد افغانستان میں مختلف گروپوں کو ایک میز پر بیٹھنا ہو گا تاکہ وہاں پائیدار امن قائم ہو اور افغانستان کا امن پاکستان کے لیے بھر ضروری ہے، ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل صرف جہاد ہے حکومت جہاد کا اعلان کرے اس کے بعد اللہ کی مدد بھی آئے گی اور مسلمانوں کی مدد بھی آئے گی جب کے میں یقین سے کہتا ہوں پاکستان جہاد کا اعلان کرے بھارت خود بخود پیچھے ہٹ جائے گا۔

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا ہے کہ دنیاوالوں کی قسمتوں کابدل ڈالاہے خلفائے راشدین نے جدیددنیاکی بنیادڈالی اور دیکھتے ہی دیکھتے امن وخوش حالی نے دنیابھرمیں اپنااعتبارقائم کردیا۔پاکستان ،عالم اسلام اور دنیاکے حکمران آج بھی سیرت رسول ؐ کامطالعہ کریں توحکومت کیسے کی جاتی ہے عوام کے دلوں پر راج کیسے کیاجاتاہے سیرت طیبہؐ سے معلوم ہوتاہے، انہوں نے کہاکہ پاکستان کے حکمران امریکا کے بجائے آقائے نامدارؐ کادامن تھام لیں توذلت ورسوائی کی جگہ عزت وشہرت بھی حکمران کادامن تھام لے گی۔

نائب امیر جماعت اسلامی سندھ حافظ نصر اللہ عزیزنے کہا کہ دین اگر ہے تو صرف اسلام میں ہے، دین کا مفہوم یہ ہے کہ زندگی گزارنے کا طریقہ جس نے اسلام کے مطابق اپنی زندگی گزاری وہ ہی اصل زندگی ہے اور اگر کسی نے اسلام کے مطابق زندگی نہیں گزاری تو اللہ نے فرمایا میرے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں، اسلام دین کی بنیاد کلمہ شہادت ہے، امام حسینؓ نے دین اسلام کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا مشکل حالات میں بھی قرآن کا ساتھ نہیں چھوڑا یہ ہی دین کا تقاضہ ہے۔
تنازعہ مقبوضہ کشمیر کی بھڑکتی ہوئی آگ سے متعلق تازہ ترین معلومات