ملکہ برطانیہ نے ’’نو ڈیل بریگزٹ‘‘ کے قانون کی منظوری دے دی

قانون کی منظوری کے بعد معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں حکومت بریگزٹ ملتوی کرنے کی پابند ہو گی: نو ڈیل بریگزٹ

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ پیر ستمبر 21:13

ملکہ برطانیہ نے ’’نو ڈیل بریگزٹ‘‘ کے قانون کی منظوری دے دی
لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 ستمبر2019ء) ملکہ برطانیہ نے نو ڈیل بریگزٹ کے قانون کی منظوری دے دی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ملکہ الزبتھ دوئم نے کہا ہے کہ قانون کی منظوری کے بعد معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں حکومت بریگزٹ ملتوی کرنے کی پابند ہو گی۔ یاد رہے کہ 27اگست کو ملکہ برطانیہ نے5ہفتوں کیلیے برطانوی پارلیمان معطل کر دی تھی تاکہ اراکین پارلیمنٹ کو’’نو ڈیل بریگز‘‘ رکوانے کیلیے وقت نہ مل سکے۔

رطانویوزیراعظم بورس جانسن نے ملکہ برطانیہ سے پارلیمنٹ معطل کرنے کی درخواست کی تھی، برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بریگزٹ پر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے جس کے بعد رطانیہ سے پارلیمنٹ معطل کر دی گئی تھی۔ اب ملکہ نے نو ڈیل بریگزٹ کے قانون کی منظوری دے دی ہے۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ پہلے ہی بورس جانسن کے لیے اکتوبر کے آخر تک بریگزٹ پر عمل درآمد انتہائی مشکل ہو گی ہے۔

یورپی یونین سے انخلاء کے معاملے پر برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی کابینہ کی ایک اور وزیر مستعفی ہو گئی ہیں۔ نومنتخب برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی یورپی یونین سے انخلاء کی پالیسیوں پر خود ان کی جماعت میں اختلافات بڑھتے جارہے ہیں۔ پارلیمان میں یکے بعد دیگرے ناکامیوں کے بعد وزیراعظم کے لیے ایک اور مشکل کھڑی ہوگئی ہے۔ برطانوی خاتون وزیر برائے محنت و پنشن امبر آگسٹا رٴْوڈ بریگزٹ ڈیل پر وزیراعظم بورس جانسن کی پالیسیوں پر شدید تحفطات کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف وزارت سے مستعفی ہوگئیں بلکہ اپنی جماعت کنزرویٹو پارٹی سے بھی راہیں جدا کرلی ہیں۔

امبر آگستا رٴْوڈ نے اپنا استعفیٰ ٹویٹر پر بھی شیئر کیا۔تین روز قبل برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے بھائی جو جانسن نے بھی خاندان سے وفاداری اور ملکی مفاد کے مابین ملکی مفاد کا انتخاب کرتے ہوئے کابینہ سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ جو جانسن کا کہنا تھا کہ ملکی مفادات پر کسی رشتے اور عہدے کو فوقیت نہیں دی جا سکتی ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم بورس جانسن کو پارلیمان میں 4 قراردادوں پر شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔