امریکا اور بھارت کی بہت بڑی شکست، افغان فوج کی بہت بڑی تعداد نے طالبان کا حصہ بننے کا فیصلہ کر لیا

ٹرمپ نائن الیون کی برسی سے پہلے افغانستان میں اپنی کامیابی کا اعلان کرنا چاہتا تھا لیکن افغان طالبان نے امن کے نام پر سرنڈر سے انکارکر دیا افغان آرمی کا بڑا حصہ امن معاہدے کے بعد طالبان میں شامل ہونے والا تھا اس لئے ٹرمپ نے مذاکرات معطل کر دئیے: حامد میر

muhammad ali محمد علی پیر ستمبر 23:19

امریکا اور بھارت کی بہت بڑی شکست، افغان فوج کی بہت بڑی تعداد نے طالبان ..
لاہور (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔09 ستمبر2019ء) امریکا اور بھارت کی بہت بڑی شکست، افغان فوج کی بہت بڑی تعداد نے طالبان کا حصہ بننے کا فیصلہ کر لیا، سینئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نائن الیون کی برسی سے پہلے افغانستان میں اپنی کامیابی کا اعلان کرنا چاہتا تھا لیکن افغان طالبان نے امن کے نام پر سرنڈر سے انکارکر دیا افغان آرمی کا بڑا حصہ امن معاہدے کے بعد طالبان میں شامل ہونے والا تھا اس لئے ٹرمپ نے مذاکرات معطل کر دئیے۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہے کہ افغان نیشنل آرمی کے کچھ اعلیٰ افسران نے طالبان سے رابطہ کیا اور کہا کہ امن معاہدے کے فوراً بعد وہ اپنے جوانوں کے ساتھ طالبان کی حمایت کا اعلان کر دیں گے۔ جب اشرف غنی کو یہ پتا چلا تو انہوں نے ٹرمپ کو پیغام بھجوایا کہ امن معاہدہ آپ کا سرنڈر بننے والا ہے۔

(جاری ہے)

9ستمبر کو کیمپ ڈیوڈ میں طالبان اور امریکی حکام امن معاہدہ فائنل کرنا چاہتے تھے تاکہ گیارہ ستمبر کو ٹرمپ یہ دعویٰ کر سکے کہ اُس نے افغانستان میں امن کرا دیا لیکن طالبان نے امریکی شرائط ماننے سے انکار کر دیا لہٰذا ٹرمپ نے مذاکرات معطل کر دیئے۔

پچھلے دنوں ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں جو رویہ تبدیل کیا تھا اُس کی اصل وجہ یہی تھی کہ ٹرمپ کو افغانستان میں اپنی کامیابی نظر آ رہی تھی لیکن طالبان نے امن مذاکرات کے نام پر سرنڈر سے انکار کر دیا۔ دوسری جانب جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کا کہنا ہے کہ امریکا اورافغان طالبان کے درمیان مذاکرات میں جنگ بندی کبھی بھی نہیں ہوئی،مائیک پومپیوکا کہنا ہے کہ امریکی فورسز نے بھی ایک ہزار افغان طالبان کو مارا، جبکہ طالبان کی جانب سے بھی فورسز پر حملے جاری رہے، اس کے ساتھ مذاکرات کا عمل بھی جاری تھا۔

طالبان کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات سے پہلے کبھی بھی یہ معاہدہ نہیں ہوا کہ مذاکرات کیلئے جنگ بندی کی جائے گی۔ جب امریکی فورسز حملے کرتی ہیں تو کیا مذاکرات یا امن عمل کی خلاف ورزی نہیں؟ طالبان کا کہنا ہے کہ امریکا جاتے ہوئے بلیک واٹر کو پیچھے چھوڑ کر جا رہا تھا۔ روس اور چین کیلئے بھی وہاں کچھ خراب صورتحال چھوڑ کر جا سکتا ہے۔ لیکن پاکستان خطے کے ممالک سے ملکر صورتحال کوٹھیک کرنے کی کوشش کرے گا ، کیونکہ اس میں روس اور چین دونوں کے مفادات ہیں۔

اس موقع پر تجزیہ کار رضا رومی نے کہا کہ امریکا کو افواج کا انخلا کرنا ہے، امریکا کی کور پالیسی ہے اس میں وہ پاکستان کو فوری طور پر سائیڈ لائن نہیں کریں گے۔ کیونکہ ابھی ان کو پاکستان کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی شرکت کے بغیر یہ امن مذاکرات آگے بڑھ ہی نہیں سکتے، یہ بات تمام فریقین کو معلوم ہے۔ اسی طرح افغانستان کی حکومت بھی اس مسئلے کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے، کیونکہ موجودہ افغان حکومت وہاں اقتدار کو انجوائے کررہی ہے۔لیکن اب مذاکرات ایسے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں کہ پیچھے مڑنا مشکل ہے۔