سکھرسمیت ریجن بھر کے مختلف اضلاع میں یوم عاشورہ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا

منگل ستمبر 20:30

سکھر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 10 ستمبر2019ء) ملک کے دیگر حصوں کی طرح حضرت امام حسین ؓ اور انکے ساتھی شہدائے کربلا کی یاد میں سکھرسمیت ریجن بھر کے مختلف اضلاع میں یوم عاشورہ محرم الحرام منگل کے روز نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ سکھر ضلع بھر میں 44 چھوٹے بڑے ماتمی جلوس نکالے گئے اور77 مقاماتِ پر مجالس عزا منعقد کی گئیں، سکھر میں عاشورہ محرم الحرام کا سب سے بڑا مرکزی ماتمی جلوس مرکزی امام بارگاہ غریب آباد سے برآمد ہوا جو بیراج روڈ، گھنٹہ گھر، مینارہ روڈ، اسٹیشن روڈ سے گزرتا ہوا مرکزی امام بارگاہ پر اختتام پذیر ہوا۔

شہر کے مختلف علاقوں سے نکلنے والے ماتمی جلوسوں کے علاوہ روایتی تعزیوں، ذوالجناح اور علم تعزیوں اور علم بردار عزادروں کے ماتمی چھوٹے بڑے جلوس شامل ہوگئے اور اپنے مقررہ راستوں سے گز ر کر اختتام پذیر ہوئے۔

(جاری ہے)

یوم عاشورہ پر نکالے جانے والے ماتمی جلوس میں شامل عزاداران حسین ؓنے تعزیے اور علم اٹھا رکھے تھے۔ چوک گھنٹہ گھر سمیت دیگر مقامات پر مجالس عزاداری میں ذاکرین نے واقعہ کربلا کے حوالے سے تقاریر کیں، شام کو مرکزی امام بارگاہ میں شام غریباں منعقد ہوئی۔

دہشتگردی کے اندیشہ کے پیش نظر صوبے کے مختلف مقامات کی طرح سکھر میں بھی یوم عاشورہ کے موقع پر پولیس، رینجرز اور انتظامیہ کی جانب سے سیکورٹی کیلئے سخت ترین حفاظتی انتظامات اٹھائے گئے تھے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دیگر وزراء و منتخب نمائندوں، پولیس افسران کے ہمراہ سکھر کا دورہ کیا اور بریفنگ لی ۔ضلع میں 2ماتمی جلوس انتہائی حساس، 4 حساس اور 38 نارمل قرار دئے گئے تھے،کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے محفوظ رہنے اور امن و امان کے قیام کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔

جلوس کے راستوں پر پولیس اور رینجرز کی درجنوں عارضی چوکیاں قائم کی گئیں، عزاداروں کے ماتمی جلوس کے دوران رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری جلوس کے ساتھ ساتھ رہی اور راستے کی عمارتوں، اہم مقاما ت پر بھی پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔ ضلعی و پولیس انتظامیہ کی جانب سے جلوسوں کے راستوں میںعزاداروں کے ماتمی جلوسوں کی براہ راست مانیٹرنگ کیلئے شہر کے مختلف مقامات پر خفیہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے تھے جن کے ذریعہ جلوس کی مسلسل نگرانی کی جاتی رہی، عزاداروںکے ماتمی جلوسوں کی گزرگاہوں کی جانب جانے والے راستوں کو خاردار تاروں اور دیگر رکاوٹوں کے ذریعے بند کر کے لوگوں کو سخت چیکنگ کے بعد گزارا گیا اور دن بھر کڑی نگرانی کی جاتی رہی، یوم عاشور ہ کے موقع پر شہر کی گلیاں اور محلے عزاداروں سے بھر گئے۔

یوم عاشورپرپولیس اور رینجرز کے علاوہ سول ڈیفنس رضا کاروں اور مختلف اسکاؤٹس تنظیموں کے رضا کاروں نے سیکورٹی کے فرائض انجام دیئے۔ سکھر اور دیگر شہروں، دیہات سمیت مختلف مقامات پر پانی اور دودھ کی سبیلیں اور طبی امدادی کیمپ لگائے گئے۔ سکھر اور خیر پور میں سول ڈیفنس کی جانب سے ابتدائی طبی امدادی کیمپ لگائے گئے جہاں سول ڈیفنس، بلدیہ اعلی سکھر سمیت دیگر نے ڈیوٹیاں سرا نجام دیں۔

یوم عاشورہ محرم الحرام کے حوالے سے ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اور صحت کے عملہ کی مختلف مقامات پر لگائی گئی ڈیوٹیاں مقرر کی گئیں ہیں جنہوں نے جلوس میں شامل عزاداروںکو ابتدائی طبی امداد کی سہولت فراہم کی۔ گھوٹکی میں محرم الحرام کے حوالے سے گھوٹکی ایٹ میرپور ماتھیلو میں ایک کنٹرول روم قائم کیا گیا ، حکام کی زیر نگرانی مسلسل مانیٹرنگ کا کام سرا نجام دیا۔

یوم عاشورہ محرم الحرام کے دوران شہر میں صفائی ستھرائی اور نکاسی و فراہمی آب اور اسٹریٹ لائٹس کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے میونسپل ایڈمنسٹریشن سکھر کی جانب سے ماتمی جلوسوں کی گزرگاہوں پر انتظامات کئے گئے تھے تاکہ شہریوںاور عزاداروں کو کسی قسم کی شکایت نہ ہو۔پنوعاقل میں امام بارگاہ قصر فاطمہ سے ماتمی جلوس نکالا گیا، جوروایتی راستوں سے ہوتا ہوا میدان عراق میں ختم ہوا، کندھرا، صالح پٹ ،باگڑجی ،آباد، اروڑ، سانگی ودیگر شہروں میں بھی شہدائے کربلا کی یاد میں ماتمی جلوس نکالے گئے۔