پولیس کے مبینہ تشدد سے ہلاک ہونے والے صلاح الدین کے والد نے بیٹے کی قبر کُشائی کی درخواست دے دی

والد نے پوسٹمارٹم پرعدم اعتماد کا اظہارکرتے ہوئے جوڈیشنل مجسٹریٹ رحیم یارخان کو درخواست دی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ ستمبر 09:52

پولیس کے مبینہ تشدد سے ہلاک ہونے والے صلاح الدین کے والد نے بیٹے کی ..
کامونکی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 11 ستمبر 2019ء) : پولیس کے مبینہ تشدد سے ہلاک ہونے والے ملزم صلاح الدین کے والد نے بیٹے کی قبر کُشائی کی درخواست دائر کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق صلاح الدین کے والد نے پوسٹمارٹم رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ رحیم یارخان کو درخواست دائر کی جس میں بیٹے کی قبر کشائی کی استدعا کی گئی۔

درخواست میں والد نے کہا کہ صوبائی میڈیکل بورڈ اسکے بیٹے کی نعش پر تشدد کے نشانات دوبارہ نوٹ کرکے اپنی رپورٹ دے۔ صلاح الدین کے والد محمد افضال نے اپنی درخواست میں کہا کہ پوسٹمارٹم کے وقت میرے بیٹے کے جسم پر لگنے والی چوٹوں کی دانستہ نشاندہی نہیں کی گئی ۔ درخواست اسامہ گھمن ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی گئی ۔ یاد رہے کہ 7 ستمبر کو وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پولیس تشدد سے ہلاک ہونے والے قیدی صلاح الدین کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔

(جاری ہے)

ملاقات کے دوران سردار عثمان بزدار نے داد رسی کی یقین دہانی بھی کروائی تھی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے صلاح الدین کے والد اور دیگر اہل خانہ کے مطالبے پر کیس کی انکوائری ڈی آئی جی کے عہدے کے افسر سے کروانے کا اعلان بھی کیا تھا۔ پولیس نے صلاح الدین کو اے ٹی ایم توڑنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا جو 31 اگست کی شب پولیس حراست میں دم توڑ گیا تھا جس کے بعد صلاح الدین کی پولیس حراست میں موت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

صلاح الدین کی پولیس حراست میں ہلاکت کے معاملے پر جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا گیا تھا۔ واقعہ پر وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب نے نوٹس بھی لیا تھا۔ مقدمہ میں گرفتار تینوں پولیس افسران نے عدالت سے 13 ستمبر تک عبوری ضمانت حاصل کررکھی ہے۔