جعلی پولیس مقابلوں میں بے گناہ شہریوں کو مارنے کیلئے ڈی پی او پنجاب کو حکم کون دیتا تھا؟

معروف صحافی و تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے حیران کُن انکشافات کر دئے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ ستمبر 10:36

جعلی پولیس مقابلوں میں بے گناہ شہریوں کو مارنے کیلئے ڈی پی او پنجاب ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 11 ستمبر 2019ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے کہا کہ میں یقین سے اور ایمانداری سے کہہ رہا ہوں کہ جب ڈی پی او کا انٹرویو لیا جاتا تھا تو محترم اور ہر دل عزیز شہباز شریف صاحب کہتے تھے کہ جعلی مقابلوں میں کتنے بندے مارو گے ؟ انہوں نے کہا کہ آج پنجاب میں جتنے بھی لوگ ان عہدوں پر کام کر رہے ہیں اُن سے جا کر پوچھ لیں۔

میں کئی ایسے بندوں کو بھی جانتا ہوں جنہوں نے جعلی مقابلوں کے حوالے سے مولویوں سے فتوے لیے ہیں اور کہا ہے یہ اصلی ہوتے ہیں۔ شہباز شریف کے دور میں ایسا ہوتا تھا کہ جب ڈکیتیاں زیادہ ہوتی تھیں تو حکم جاتا تھا کہ آٹھ دس بکرے فارغ کرو۔ اُس کا مطلب ہوتا تھا کہ انسان مار دو، عدالتیں ختم کر دو، وکلا ختم کر دو، انصاف ختم کر دو۔

(جاری ہے)

ایک تھانیدار جو جرائم میں ملوث تھا ،جس کی ایک ایک رات پانچ ، پانچ لاکھ کی گزرتی تھی، اُس کو حکم دیا جاتاتھا کہ جا کر چار بندوں کو گولی مار دو۔

اقبال ٹاؤن میں فٹ پاتھ پر پر پڑے چار لوگوں کو گولیاں مار دی گئی تھیں۔ ہزاروں جعلی مقابلے ہوئے لیکن کسی ایک کو بھی آج تک سزا نہیں ہوئی۔ خیال رہے کہ حال ہی میں پولیس کے مبینہ تشدد سے ایک ملزم صلاح الدین کی پولیس حراست میں ہی موت واقع ہو گئی جس کے بعد سے پولیس کی کارکردگی اور تھانہ کلچر کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر سے کئی سوالات اُٹھنے لگے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے تھانہ کلچر کو ختم کرنے اورامیر و غریب کے لیے یکساں قانون کو نافذ کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں بھی پولیس گردی کے کئی قصے سامنے آ رہے ہیں جنہوں نے ناقدین کی توپوں کا رُخ حکومتی جماعت کی جانب موڑ دیا ہے۔