امریکا ایران کی جگہ ہوتا توپابندیوں سے اس کادھڑن تختہ ہوجاتا،کمانڈر پاسداران انقلاب

شکست ، سرنڈر ،سمجھوتا اور مذاکرات کے الفاظ ہماری لغت میں موجود نہیں۔ہمارا انداز مزاحمت ، کنٹرول اور مسئلہ کا حل ہے،حسین سلامی

بدھ ستمبر 13:25

تہران(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 ستمبر2019ء) ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے کمانڈر بریگیڈئیر جنرل حسین سلامی نے کہا ہے کہ اگر امریکا پرایران کی طرح پابندیاں عاید ہوتیں تو اس کا اب تک انہدام ہوچکا ہوتا۔ایران کی طلبہ خبررساں ایجنسی کے مطابق انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ اگر ایران کی طرح امریکا پر پابندیاں عاید ہوتیں تو وہ دھڑام سے نیچے آ گرتا۔

امریکی حکام کی مذاکرات میں صرف ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ایرانی حکام کے ساتھ ایک تصویر کھنچوا سکیں۔امریکا نے حال ہی میں دہشت گردی کے نام سے فرموں کے ایک نیٹ ورک ، جہازوں اور افراد پر پابندیاں عاید کی ہیں۔اس کا کہنا تھا کہ اس نیٹ ورک کا سپاہِ پاسداران انقلاب سے تعلق تھا۔ایران پر شام کو کروڑوں ڈالر مالیت کا تیل اسمگل کرنے کا بھی الزام ہے۔

(جاری ہے)

امریکا نے ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے یہ پابندیاں عاید کی ہیں اور ان کا ایک مقصد ایران کو تیل کی برآمدات سے روکنا ہے۔تیل ایران کی آمدن کا بڑا ذریعہ ہے لیکن اب اس کی تیل کی برآمدات نصف سے بھی کم ہو کر رہ گئی ہیں لیکن ان کے اقتصادی اثرات کے باوجود ایران کا کہنا ہے کہ اس پر عاید کردہ پابندیاں کوئی زیادہ موثر نہیں رہی ہیں۔حسین سلامی نے کہا کہ آج دشمن پسپائی اختیار کررہے اور بھاگ رہے ہیں۔

ہم دشمنوں کے اقدامات کو ملاحظہ کررہے ہیں اور ان کی صلاحیتوں کے بارے میں جانتے ہیں۔جہاں بھی اسلام کے بچّوں نے پیش قدمی کی ہے، وہاں دشمنوں کو پسپائی اختیار کرنا پڑی ہے۔کمانڈر کا کہنا تھا کہ شکست ، سرنڈر ،سمجھوتا اور مذاکرات کے الفاظ ہماری لغت میں موجود نہیں۔ہمارا انداز مزاحمت ، کنٹرول اور مسئلہ کا حل ہے۔حسین سلامی نے کہا کہ ہم اپنے مسائل پر قابو پالیں گے۔ انھوں نے ایران کو درپیش مشکلات کو تسلیم کیا اور کہا کہ ہم ان مسائل کی وجہ سے دشمن کے آگے سرنگوں نہیں ہوں گے۔