بانی پاکستان کی71ویں برسی

وزیراعلی اور گورنر سندھ کی مزار قائد حاضری

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ ستمبر 13:47

بانی پاکستان کی71ویں برسی
کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔11 ستمبر۔2019ء) بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی 71ویں برسی آج منائی جارہی ہے قائداعظم نے آل انڈیا کانگریس کی بھرپور مخالفت کے باوجود برصغیر میں پاکستان کے نام سے نئی ریاست کی بنیاد رکھی. بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کانگریس کی قیادت اور انگریزوں سے مشترکہ خطاب میں 16 دسمبر 1946 کو دو قومی نظریہ واضح کر دیا‘ قیام پاکستان کا فیصلہ ہو چکا تو قائد نے 11 اگست 1947 کو قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں نئی ریاست کے رہنما اصول بھی واضح کر دئیے جہاں سب شہریوں کو مذہبی ازادی حاصل تھی.

(جاری ہے)

پاکستان کے استحکام کے لیے قائد اعظم کے فرمودات آج بھی رہنمائی فراہم کرتے ہیں لیکن انہیں ریاستی معاملات میں زیر عمل لائے جانے کی ضرورت ہے‘ قائد اعظم کی برسی کے موقع پر گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے مزار قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی. تفصیلات کے مطابق بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا 71ویں برسی ملک بھر میں نہایت عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے، قائداعظم کے یوم وفات پر گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی کابینہ کے اراکین کے ہمراہ مزار قائد پر حاضری دی.

مزار قائد پر حاضری کے بعد گورنر سندھ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ر ہے گا. عمران اسماعیل نے کہا کہ کراچی کی بہتری کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں، 18ویں ترمیم کو چیلنج کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے.گورنر سندھ نے کہا کہ کراچی کے مسائل پرقائم کمیٹی 10 سے 12 دن میں رپورٹ پیش کرے گی، کمیٹی کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش ہوگی تو مسائل میں کمی آئے گی.

وزیراعلیٰ سندھ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قائداعظم کی مدبرانہ صلاحیتوں کا ثمر ہے، پاکستان کو پرامن بنانے کے لیے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا‘وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ پوری قوم کشمیر کے ساتھ کھڑی ہے، ہمیشہ ساتھ رہے گی.وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مزار قائد پر موجود مہمانوں کی تاثراتی کتاب میں اپنے تاثرات بھی درج کیے. تینوں مسلح افواج کے نمائندوں نے بھی مزار پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی، فاتحہ خوانی اور تاثراتی کتاب میں اپنے تاثرات درج کیے.